نہیں یعنی فوراً اُجرت دینا واجب نہیں اُجرت ملک میں آنے کی چند صورتیں ہیں:ّ(1) اُس نے پہلے ہی سے عقد کرتے ہی اُجرت دیدی دوسرا اس کا مالک ہوگیا یعنی واپس لینے کا اُس کو حق نہیں ہے، (2)یاپیشگی لینا شرط کرلیا ہواب اُجرت کا مطالبہ پہلے ہی سے درست ہے،(3) یامنفعت کو حاصل کرلیامثلاً مکان تھااُس میں مدتِ مقرر ہ تک رہ لیا یا کپڑا درزی کو سینے کے لیے دیا تھا اُس نے سی دیا، (4)وہ چیزمستاجر کو سپرد کردی کہ اگر وہ منفعت حاصل کرنا چاہے کرسکتا ہے نہ کرے یہ اُس کا فعل ہے مثلاً مکان پر قبضہ دے دیا یااجیر(1)نے اپنے نفس کو تسلیم کردیا کہ میں حاضر ہوں کام کے لیے طیار ہوں کام نہ لیا جائے جب بھی اُجرت کامستحق ہے۔ (2) (بحر، درمختار)
مسئلہ۱۰: اجارہ کا جوکچھ زمانہ مقرر ہوا ہے اس میں سے تھوڑا زمانہ گزر گیا اور باقی،باقی ہے اس باقی زمانہ میں بھی مالک کو چیز دینا اورمستاجر کولینا ضروری ہے یعنی کچھ زمانہ گزر جانا باز رہنے کا سبب نہیں ہوسکتا ہاں جو زمانہ گزر گیا اگر اجارہ سے اصلی مقصود وہی زمانہ ہو یعنی وہی زمانہ زیادہ کار آمد ہو تو مستاجر کو اختیار ہے کہ باقی زمانہ میں لینے سے انکارکردے جیسے مکہ معظمہ میں مکانات کا اجارہ ایک سال کے لیے ہوتا ہے مگر موسم حج ہی ایک بہتر زمانہ ہے کہ معلّمین (3)حجاج کو ان مکانات میں ٹھہرا تے ہیں اور اسی کی خاطر پورے سال کا کرایہ دیتے ہیں اگر موسم حج نکل گیا اور مکان تسلیم نہیں کیا(4) تو کرایہ دار یعنی معلّمین کو اختیار ہے کہ مکانات لینے سے انکار کردیں۔(5) (بحرالرائق)
اسی طرح نینی تال (6)وغیرہ پہاڑوں پر موسم گرما زیادہ مقصود ہوتا ہے اسی کے لیے ایک سال کا کرایہ دیتے ہیں بلکہ جاڑوں میں(7)مکانات اور دکانیں چھوڑ کرلوگ عموماً وہاں سے چلے آتے ہیں اگر یہ موسم گرما ختم ہوگیا اور مکان یا دُکان پر مالک نے قبضہ نہ دیا تو جاڑوں میں جبکہ وہاں رہنا نہیں ہے لیکر کیا کریگا لہٰذا کرایہ دار کو اختیار ہے اگرلینا چاہے لے سکتا ہے نہ لینا چاہے انکار کرسکتا ہے۔ اسی طرح بعض جگہ بعض موسم میں بازار کا حال اچھا ہوتا ہے اُسی کے لیے سال بھر تک دکانیں کرایہ پر رکھتے ہیں و ہ زمانہ نہ ملے تو باقی میں اختیار ہے مثلاً اجمیر شریف میں دوکانداری کا پورا نفع زمانہ عُرس میں ہوتا ہے بلکہ اس زمانہ میں مکانات کے کرایے بھی بہ نسبت دیگر زمانہ کے بہت زیادہ ہوتے ہیں اس زمانہ میں