مکان یا دکان پر قبضہ نہ ملنا کرایہ دار کے لیے نقصان کا سبب ہے لہٰذا اسے اختیار ہے۔
مسئلہ۱۱: پیشگی اُجرت شرط کرنے سے مستاجر سے اُس وقت مطالبہ ہوگا کہ جب وہ اجارہ منجزہ ہو مثلاً یہ مکان ہم نے تم کو اتنے کرایہ پر دے دیا اور اگر اجارہ مضافہ ہو کہ فلاں مہینہ کے لیے مثلاًکرایہ پر دیا اس میں ابھی سے کرایہ کا مطالبہ نہیں ہوسکتا اگرچہ پیشگی کی شرط ہو۔(1) (بحر)
مسئلہ ۱۲: منفعت حاصل کرنے پر قادر ہونے سے اُجرت واجب ہوجاتی ہے اگرچہ منفعت حاصل نہ کی ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلاًمکان کرایہ دار کو سپرد کردیا جائے اس طرح کہ مالک مکان کے متاع وسامان سے خالی ہواور اُس میں رہنے سے کو ئی مانع (2)نہ ہو نہ اُس کی جانب سے نہ اجنبی کی جانب سے اس صورت میں اگر وہ نہ رہے اور بیکار مکان کو خالی چھوڑ دے تو اُجرت واجب ہوگی لہٰذا اگر مکان سپر دہی نہ کیا یا سپرد کیا مگر اُس میں خود مالک مکان کا سامان واسباب ہے یا مدت کے گزر جانے کے بعد سپرد کیا یا مدت ہی میں سپرد کیا مگر اُسے کوئی عذر ہے یا اُس کو عذر بھی نہیں مگر حکومت کی جانب سے رہنے سے ممانعت ہے یا غاصب نے اُسے غصب کرلیا یا وہ اجارہ ہی فاسد ہے ان سب صورتوں میں مالک مکان اُجرت کا مستحق نہیں۔ جانور کو کرایہ پر لیا اس میں بھی یہ صورتیں ہیں بلکہ اس میں ایک صورت یہ زائد ہے کہ مالک نے اسے جانور دیدیا مگر جہاں سوار ہونے کے لیے لیا تھا وہاں نہیں گیا بلکہ کسی دوسری جگہ جانور کو باندھ رکھا مثلاًلیا تھا اس لیے کہ شہر سے باہر فلاں جگہ سوار ہو کر جائے گااور جانور کو مکان ہی میں باندھ رکھاوہاں گیا ہی نہیں کہ سوار ہوتا اس صورت میں بھی اُجرت واجب نہیں اور اگر شہر میں سوار ہونے کے لیے لیا تھا اور مکان میں باندھ رکھا سوار نہیں ہوا تو اُجرت واجب ہے۔ (3) (طحطاوی)
مسئلہ ۱۳: غصب سے مراد اس جگہ یہ ہے کہ اُس سے منفعت حاصل کرنے سے روک دے حقیقۃًغصب ہویا نہ ہو غصب عام ہے کہ پوری مدت میں ہو یا بعض مدت میں اگرپوری مدت میں ہو تو پورا کرایہ جاتا رہا اور بعض مدت میں ہو تو حساب سے اُتنے دنوں کا جو کرایہ ہوتا ہے وہ نہیں ملے گا۔(4) (بحر)اسی طرح اگرکوئی دوسرا مانع اندرونِ مدت پیدا ہوگیا کہ اُس چیز سے انتفاع نہ ہوسکے (5)تو بقیہ مدت کی اُجرت ساقط ہے مثلاًزمین کاشت کے لیے لی تھی وہ پانی سے ڈوب گئی یا پانی نہ ہونے کی وجہ