باتوں پر اجارہ صحیح نہیں۔ (۹)وہ عمل جس کے لیے اجارہ ہوا اُس شخص پر فرض و واجب نہ ہو۔ (۱۰)منفعت مقصود ہو۔ (۱۱) اُسی جنس کی منفعت اُجرت نہ ہو۔ (۱۲)اجارہ میں ایسی شرط نہ ہو جو مقتضا ئے عقد(1)کے خلاف ہو۔
مسئلہ ۵: اجارہ کا حکم یہ ہے کہ طرفین(2)بدلین کے(3)مالک ہو جاتے ہیں مگر یہ مِلک ایک دم نہیں ہوتی بلکہ وقتاً فوقتا ہوتی ہے۔ (4) (درمختار)
مگرجبکہ تعجیل یعنی پیشگی لینا شرط ہو تو عقد کرتے ہی اُجرت کامالک ہو جائے گا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: اجارہ کبھی تعاطی سے بھی منعقد ہوجاتا ہے اگر مدت معلوم ہو مثلاً مکان کرایہ پر دیا اُس نے کرایہ دیدیا اور معلوم ہے کہ ایک ماہ کے لیے ہے صحیح ہے طویل مدت کا اجارہ تعاطی سے منعقدنہیں ہوتا۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۷: منفعت کی مقدار کا علم مدت بیان کرنے سے ہوتا ہے مثلاً پانچ روپے میں ایک مہینہ کے لیے مکان کرایہ لیا یا ایک سال کے لیے کھیت اجارہ پر لیا۔ یہ اختیار ہے کہ جس مدت کے لیے اجارہ ہو وہ قلیل مدت ہو مثلاً ایک گھنٹہ یا ایک دن یا طویل دس برس، بیس برس، پچاس برس۔ اگر اتنی مدت کے لیے اجارہ ہوکہ عادۃً اُتنے دنوں تک زندگی متوقع نہ ہوجب بھی اجارہ درست ہے۔ وقف کے اجارہ کی مدت تین سال سے زیادہ نہ ہونی چاہیے مگر جبکہ اتنے دنوں کے لیے کوئی کرایہ دار نہ ملتا ہو یا مدت بڑھا نے میں زیادہ فائدہ ہے تو بڑھا سکتے ہیں۔ (7) (بحروغیرہ)
مسئلہ ۸: کبھی عمل کا بیان خود اُس کا نام لینے سے ہوتا ہے مثلاً اِس کپڑے کی رنگائی یا اس کی سلائی یا اس زیور کی بنوائی مگر کام کو اس طرح بیان کرنا ہوگا کہ جہالت باقی نہ رہے کہ جھگڑا ہو لہٰذا جانور کو سواری کے لیے لیا اس میں فقط فعل بیان کرنا کافی نہیں جب تک جگہ یا وقت کا بیان نہ ہو۔ کبھی اشارہ کرنے سے منفعت کا پتہ چلتا ہے مثلاً کہہ دیا یہ غلہ فلاں جگہ لیجاناہے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۹: اجارہ میں اُجرت محض عقد سے(9)مِلک میں داخل نہیں ہوتی یعنی عقد کرتے ہی اُجرت کامطالبہ درست