Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
107 - 186
اپنی مزدوری چھوڑ کرچلاگیا اُس کی مزدوری کومیں نے بڑھایا یعنی اُس سے تجارت وغیرہ کوئی ایساکام کیا جس سے اُس میں اضافہ ہوا اُس کو بڑھاکر میں نے بہت کچھ کرلیا وہ ایک زمانہ کے بعد آیا اور کہنے لگا:اے خدا کے بندہ! میری مزدوری مجھے دیدے۔ میں نے کہا:یہ جو کچھ اونٹ، گائے، بیل، بکریاں، غلام تو دیکھ رہا ہے یہ سب تیری ہی مزدوری کاہے سب لے لے۔ بولا:اے بندہ خدا! مجھ سے مذاق نہ کر۔ میں نے کہا:مذاق نہیں کرتا ہوں یہ سب تیر اہی ہے، لے جا، وہ سب کچھ لے کر چلا گیا، الٰہی!اگر یہ کام میں نے تیری رضا کے لیے کیا ہے تو اسے ہٹا دے وہ پتھر ہٹ گیا، یہ تینوں اُس غار سے نکل کر چلے گئے۔''(1)

    حدیث ۵: ابو داود وابن ماجہ عبادہ بن صامت رضی اﷲتعالٰی عنہ سے  راوی کہتے ہیں، میں نے عرض کی، یارسول اللہ!(صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)ایک شخص کو میں قرآن پڑھاتا تھا اُس نے کمان ہدیۃً دی ہے یہ کوئی مال نہیں ہے یعنی ایسی چیز نہیں ہے جسے اُجرت کہا جائے، جہاد میں اس سے تیر اندازی کروں گا۔ ارشاد فرمایا:''اگر تمھیں یہ پسند ہو کہ تمھارے گلے میں آگ کا طوق ڈالاجائے تو اسے قبول کرلو۔'' (2)
مسائل فقہیّہ
    کسی شے کے نفع کاعوض کے مقابل کسی شخص کو مالک کردینا اجارہ ہے۔(3)مزدوری پر کام کرنا اور ٹھیکہ اور کرایہ اور نوکری یہ سب اجارہ ہی کے اقسام ہیں۔ مالک کو آجر، موجراور مواجر اورکرایہ دار کو مستاجر اور اُجرت پر کام کرنے والے کو اجیر کہتے ہیں۔

    مسئلہ۱: جس نفع پر عقد ِاجارہ ہو وہ ایسا ہونا چاہیے کہ اُس چیز سے وہ نفع مقصود ہواور اگرچیز سے یہ منفعت مقصود نہ ہوجس کے لیے اجارہ ہوا تو یہ اجارہ فاسد ہے مثلاًکسی سے کپڑے اور ظروف(4)کرایہ پر لیے مگر اس لیے نہیں کہ کپڑے پہنے جائیں گے ظروف استعمال کیے جائیں گے بلکہ اپنا مکان سجانا مقصود ہے یا گھوڑا کرایہ پر لیا مگر اس لیے نہیں کہ ا س پر سوار ہوگا بلکہ کوتل چلنے کے لیے(5)یامکان کرایہ پر لیا اس لیے نہیں کہ اس میں رہے گابلکہ لوگوں کے کہنے کو ہوگاکہ یہ مکان فلاں کا ہے ان سب صورتوں میں اجارہ فاسد ہے اور مالک کو اُجرت بھی نہیں ملے گی اگرچہ مستاجر نے(6)چیز سے وہ کام لیے جس کے لیے اجارہ کیا تھا۔ (7) (درمختار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''، کتاب الإجارۃ، باب من استاجر اجیراً ... إلخ، الحدیث: ۲۲۷۲،ج۲، ص۶۶،۶۷وغیرہ. 

2۔۔۔۔۔۔ ''سنن أبی داود''،کتاب الإجارۃ، باب فيکسب المعلم،الحدیث: ۳۴۱۶،ج۳، ص۳۶۲. 

و''سنن ابن ماجۃ''، کتاب التجارات، باب الأجر علی تعلیم القرآن، الحدیث: ۲۱۵۷،ص۱۶،۱۷.

3۔۔۔۔۔۔''الدر المختار''، کتاب الإجارۃ، ج۹، ص۶،۷.

4۔۔۔۔۔۔ برتن وغیرہ۔     5۔۔۔۔۔۔یعنی اپنے آگے بطور نمودونمائش چلانے کیلئے۔     6۔۔۔۔۔۔کرایہ پر لینے والے نے۔

7۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الإجارۃ،ج۹،ص۷.
Flag Counter