Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
106 - 186
فرمایا کہ ''تمھیں ا س کا رقیہ (جھاڑ)ہونا کیسے معلوم ہوا؟ اور یہ فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیاآپس میں اسے تقسیم کرلو اور (اس لیے کہ اس کے جواز کے متعلق اُن کے دل میں کوئی خدشہ نہ رہے یہ فرمایاکہ)میرابھی ایک حصہ مقرر کرو۔''(1)اس حدیث سے معلوم ہو اکہ جھاڑپھونک کی اُجرت لینا جائز ہے جبکہ کہ قرآن سے ہو یا ایسی دُعاؤں سے ہوجن میں ناجائز و باطل الفاظ نہ ہوں۔ 

    حدیث ۴: صحیح بخاری شریف وغیرہ میں عبداللہ بن عمر رضی اﷲتعالٰی عنہماسے مروی، کہتے ہیں میں نے رسو ل اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلَّم سے سنا کہ فرماتے ہیں:''اگلے زمانہ کے تین شخص کہیں جارہے تھے، سونے کے وقت ایک غار کے پاس پہنچے اُس میں یہ تینوں شخص داخل ہوگئے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے گری جس نے غار کو بند کردیا اُنھوں نے کہا:اب اس سے نجات کی کوئی صورت نہیں بجز اس کے کہ تم نے جوکچھ نیک کام کیاہو اُس کے ذریعہ سے اللہ (عزوجل)سے دُعا کرو۔ ایک نے کہا اے اللہ!(عزوجل)میرے والدین بہت بوڑھے تھے جب میں جنگل سے بکریاں چرا کر لاتا تو دودھ دوہ کر سب سے پہلے اُن کو پلاتا اُن سے پہلے نہ اپنے بال بچوں کوپلاتا، نہ لونڈی نہ غلام کو دیتا، ایک دن میں جنگل میں دور چلاگیا رات میں جانوروں کو لے کر ایسے وقت آیا کہ والدین سوگئے تھے میں دودھ لیکر اُن کے پاس پہنچا تو وہ سو ئے ہوئے تھے بچے بھوک سے چلا رہے تھے، مگر میں نے والدین سے پہلے بچوں کو پلانا پسند نہ کیا اور یہ بھی پسند نہ کیا کہ انھیں سوتے سے جگادوں دودھ کا پیالہ ہاتھ پر رکھے ہوئے ان کے جاگنے کے انتظار میں رہا یہاں تک کہ صبح چمک گئی اب وہ جاگے اور دودھ پیا، اے اﷲ!(عزوجل)اگر میں نے یہ کام تیری خوشنودی کے لیے کیاہے تو اس چٹان کوکچھ ہٹا دے، اس کا کہنا تھا کہ چٹان کچھ سرک گئی مگر اتنی نہیں ہٹی کہ یہ لوگ غار سے نکل سکیں۔ 

دوسرے نے کہا:اے اللہ!(عزوجل)میرے چچا کی ایک لڑکی تھی جس کو میں بہت محبوب رکھتا تھا، میں نے اُس کے ساتھ بُرے کام کا ارادہ کیا اُس نے انکار کردیا، وہ قحط کی مصیبت میں مبتلا ہوئی میرے پاس کچھ مانگنے کو آئی میں نے اُسے ایک سو بیس اشرفیاں دیں کہ میرے ساتھ خلوت کرے(2)وہ راضی ہوگئی، جب مجھے اُس پر قابو ملا (3)تو بولی کہ ناجائز طورپر اس مُہر کا توڑنا(4)تیرے لیے حلال نہیں کرتی، اس کام کو گناہ سمجھ کر میں ہٹ گیا اور اشرفیاں جو دے چکا تھا وہ بھی چھوڑ دیں، الٰہی!اگر یہ کام تیری رضا جوئی کے لیے میں نے کیاہے تو اس کو ہٹا دے، اس کے کہتے ہی چٹان کچھ سرک گئی مگر اتنی نہیں ہٹی کہ نکل سکیں۔ 

تیسرے نے کہا، اے اللہ!(عزوجل)میں نے چندشخصوں کو مزدوری پر رکھا تھا، اُن سب کو مزدوریاں دیدیں ایک شخص
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''صحیح البخاري''،کتاب الإجارۃ، باب ما یُعطَی في الرُّقْیۃ ...إلخ، الحدیث: ۲۲۷۶،ج۲، ص۶۹.

وکتاب فضائل القرآن، باب فاتحۃ الکتاب، الحدیث: ۵۰۰۷،ج۳، ص۴۰۴،۴۰۵. 

2۔۔۔۔۔۔یعنی مجھے ہمبستری کرنے دے۔    3۔۔۔۔۔۔یعنی اُس پر غالب ہوا۔      4۔۔۔۔۔۔پردہ بکارت کو زائل کرنا۔
Flag Counter