Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
105 - 186
حدیث ۱: صحیح بخاری شریف میں ابوہر یرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی، رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی نے فرمایاکہ ''تین شخص وہ ہیں جن کا قیامت کے دن میں خصم ہوں (اُن سے مطالبہ کروں گا)ایک وہ جس نے میرا نام لے کر معاہدہ کیا پھر اُس عہد کو توڑ دیا اور دوسرا وہ جس نے آزاد کو بیچا اور اُس کا ثمن کھایا اور تیسرا وہ جس نے مزدور رکھااور اس سے کام پورا لیا اور اُس کی مزدوری نہیں دی۔ (1)

    حدیث ۲: ابن ماجہ نے عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہماسے روایت کی، رسول اللہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا:''مزدور کی مزدور ی پسینہ سوکھنے سے پہلے د ے دو۔'' (2)

    حدیث ۳: صحیح بخاری شریف میں ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے مروی، کہتے ہیں صحابہ میں کچھ لوگ سفر میں تھے ان کا گزر قبائل عرب میں سے ایک قبیلہ پر ہوا،انھوں نے ضیافت(3)کامطالبہ کیا اُنھوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کردیا، اُس قبیلہ کے سردار کو سانپ یا بچھو نے کاٹ لیا اُس کے علاج میں اُنھوں نے ہر قسم کی کوشش کی مگر کوئی کارگر نہ ہوئی پھر اُنھیں میں سے کسی نے کہا یہ جماعت جویہاں آئی ہے (صحابہ)ان کے پاس چلو شاید ان میں سے کسی کے پا س اس کا کچھ علاج ہو، وہ لوگ صحابہ کے پاس حاضر ہوکر کہنے لگے کہ ہمارے سردارکو سانپ یا بچھو نے ڈس لیا اور ہم نے ہرقسم کی کوشش کی مگر کچھ نفع نہ ہوا کیا تمھارے پا س اس کا کچھ علاج ہے؟ ایک صاحب بولے، ہاں میں جھاڑتاہوں مگر ہم نے تم سے مہمانی طلب کی اور تم نے ہماری مہمانی نہیں کی تو اب اُس وقت میں جھاڑوں گاکہ تم اس کی اُجرت دو، اُجر ت میں بکریوں کاریوڑدینا طے پایا (ایک روایت میں ہے تیس بکریاں دینا طے ہوا)اُنھوں نے
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
یعنی سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنا شروع کیا، وہ شخص بالکل اچھا ہوگیا اور وہاں سے ایسا ہو کر گیا کہ اُس پر زہر کاکچھ اثر نہ تھا، اُجرت جو مقرر ہوئی تھی اُنھوں نے پوری دے دی۔ ان میں بعض نے کہا کہ اس کو آپس میں تقسیم کرلیا جائے مگر جنھوں نے جھاڑاتھا یہ کہاکہ ایسا نہ کرو بلکہ جب ہم نبی صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہولیں گے اور حضور (صلی اﷲتعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)سے تمام واقعات عرض کرلیں گے پھر حضور (صلی اﷲ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلم)اس کے متعلق جو کچھ حکم دیں گے وہ کیا جائے گا یعنی اُنھوں نے خیال کیا کہ قرآن پڑھ کردم کیا ہے کہیں ایسا نہ ہوکہ اس کی اُجرت حرام ہو۔ جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس واقعہ کا ذکر کیا، ارشاد
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''، کتاب البیوع، باب إثم من باع حرًّا، الحدیث: ۲۲۲۷،ج۲، ص۵۲.

2 ۔۔۔۔۔۔''سنن ابن ماجۃ''، کتاب الرھون، باب أجر الأجرائ، الحدیث: ۲۴۴۳،ج۳، ص۱۶۲. 

3۔۔۔۔۔۔ابتدائے اسلام میں یہ حکم تھاکہ جب کسی قوم پر گزرو اور وہ تمھاری مہمانی کریں فبہاورنہ تم ان سے وصول کرلولہٰذاجب حکم شرع یہ تھاتو اپنے 

حق کا یہ مطالبہ تھااور اس میں کوئی عیب نہیں۔۱۲منہ حفظہ ربہ
Flag Counter