| بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14) |
معافی صحیح ہے اور مشتری نے جو کچھ ثمن دیا ہے بائع سے واپس لے گا۔ (1) (درمختار)
مسئلہ۲۸: ایک شخص نے دوسرے کے پاس خط لکھا اور اُس میں یہ بھی لکھا کہ اس کا جواب پشت پر لکھ دو اُس کا واپس کرنا لازم ہوگا اور اگر یہ نہیں لکھا تو وہ خط مکتوب الیہ کا ہے جو چاہے کرے۔ (2) (جوہرہ)
بلکہ اس زمانہ میں یہ عرف ہے کہ خط دوورقہ کا غذ پر لکھتے ہیں ایک ورق پرلکھنا عیب جانتے ہیں اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خط میں چند سطریں ہوتی ہیں باقی کا غذ سادہ رہتا ہے یہ کاغذ مکتوب الیہ کاہے وہ جو چاہے کرے۔
مسئلہ۲۹: ایک شخص کا انتقال ہوگیا اُس کے بیٹے کے پاس کسی نے کفن بھیجا، اس کفن کا مالک بیٹا ہوسکتا ہے یا نہیں یعنی بیٹے کو یہ اختیار ہے یا نہیں کہ اس کپڑے کوخود رکھ لے اور دوسرے کاکفن دیدے اگر میت اُن لوگوں میں سے ہے کہ اُس کوکفن دینا اپنے لیے باعث برکت جانتے ہیں مثلاًوہ عالم فقیہ ہے یا پیر ہے تو بیٹے کووہ کفن رکھ لینا ااور دوسرا کفن دینا جائز نہیں ورنہ جائز ہے اور پہلی صورت میں کہ اس کو دوسرے کپڑے میں کفن دینا جائزنہ تھا اس نے وہ کپڑا رکھ لیا اور دوسراکفن دیا تو اس کپڑے کو واپس کرناواجب ہوگا۔ (3) (جوہرہ)اجارہ کا بیان
اللہ عزوجل فرماتاہے:
(قَالَتْ اِحْدٰىہُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاۡجِرْہُ ۫ اِنَّ خَیۡرَ مَنِ اسْتَاۡجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیۡنُ ﴿۲۶﴾قَالَ اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنْ اُنۡکِحَکَ اِحْدَی ابْنَتَیَّ ہٰتَیۡنِ عَلٰۤی اَنۡ تَاۡجُرَنِیۡ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنۡدِکَ ۚ وَمَاۤ اُرِیۡدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیۡکَ ؕ سَتَجِدُنِیۡۤ اِنۡ شَآءَ اللہُ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۲۷﴾)
(4)
''شعیب (علیہ السلام)کی دونوں لڑکیوں میں سے ایک نے کہااے والد انھیں(موسیٰ علیہ السلام کو)نوکر رکھ لیجئے کہ بہتر نوکر وہ ہے جوقوی وامین ہو (شعیب علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے)کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک سے تمھارا نکاح کردوں اس پر کہ آٹھ برس تک تم میرا کام اُجرت پر کرو اور اگردس ۱۰ برس پورے کردو تو یہ تمھاری طرف سے ہوگا میں تم پر مشقت ڈالنا نہیں چاہتا انشاء اللہ (عزوجل)تم مجھے نیکوں میں سے پاؤ گے۔''ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الھبۃ،باب الرجوع فی الھبۃ،فصل فی مسائل متفرقۃ،ج۸،ص۶۰۸. 2۔۔۔۔۔۔''الجوہرۃ النیرۃ''، کتاب الھبۃ،الجزء الاول،ص۴۲۹. 3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق ،ص۴۳۰. 4۔۔۔۔۔۔پ۲۰،القصص:۲۶،۲۷.