Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ چہاردَہم (14)
101 - 186
حلال ہے مگر لینا یا کسی کو دینا حلال نہیں۔(1) (عالمگیری)

    مسئلہ ۱۵: یہ کہا میں نے تمھیں اس وقت معاف کردیا یا دنیا میں معاف کردیا تو ہر وقت کے لیے معافی ہوگئی اور دُنیا و آخرت دونوں میں معافی ہوگئی کہیں بھی اس کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ (2) (عالمگیری)

    مسئلہ ۱۶: کسی کی چیز غصب کرلی ہے مالک سے معاف کرالی تو ضمان سے بَری ہوگیا مگر چیز اب بھی مالک ہی کی ہے غاصب کوا س میں تصرف کرنا جائز نہیں یعنی جو چیز ذمہ میں واجب ہے اُس کی معافی ہوتی ہے عین کی معافی نہیں ہوتی۔ (3) (عالمگیری)

    مسئلہ ۱۷: مدیون(4)سے دَین(5)وصول ہونے کی اُمید نہ ہوتو اُس پر دعویٰ کرنے سے یہ بہترہے کہ معاف کردے کہ وہ عذاب سے بچ جائے گااور اس کو ثواب ملے گا۔(6) (عالمگیری)

    مسئلہ ۱۸: جانور بیمار تھا اُس نے چھوڑ دیا کسی نے اُسے پکڑا اور علاج کیاوہ اچھا ہوگیا اگر مالک نے چھوڑ تے وقت یہ کہہ دیا ہے کہ فلاں قوم میں سے جو اسے لے لے اُسی کا ہے تو اگر وہ پکڑنے والااسی قوم سے ہے تو اُس کا ہوگیا اور اگر کچھ نہ کہایایہ کہا کہ جو لے لے اُس کا ہے اور قوم یا جماعت کو معین نہیں کیا ہے تو وہ جانور مالک ہی کا ہے اُس شخص سے لے سکتا ہے پرند چھوڑدیا اس کا بھی یہی حکم ہے اور جنگلی پرند کوپکڑ نے کے بعد چھوڑنا نہ چاہیے جب تک یہ نہ کہے کہ جو پکڑلے اُس کا ہے۔ (7)(عالمگیری)کیونکہ پکڑنے سے اُس کی ملک ہوگیا اور جب چھوڑدیا تو شکار کرنے والوں کو کسی کی ملک ہونا معلوم نہ ہوگا لہٰذا اجازت کی ضرورت ہے تاکہ شکار کرنے والوں کو اُس کالینا نا جائز نہ ہو مگر ظاہریہ ہے کہ اِس میں قوم یا جماعت کی تخصیص کی جائے۔ 

    مسئلہ ۱۹: دَین کا اُسے مالک کردینا جس پر دَین نہیں ہے یعنی مدیون کے سواکسی دوسرے کو مالک کردینا باطل ہے مگرتین صورتوں میں اول حوالہ کہ اپنے دائن کو اپنے مدیون پر حوالہ کردے دوسری وصیت کہ کسی کو وصیت کردی کہ فلاں کے ذمہ جو میرا دَین ہے میرے مرنے کے بعد وہ دَین فلاں کے لیے ہے تیسری صورت یہ ہے کہ جس کو مالک بنائے اُسے قبضہ پر مسلَّط
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثالث فیمایتعلق بالتحلیل،ج۴،ص۳۸۲.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.    3۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

4۔۔۔۔۔۔مقروض۔        5۔۔۔۔۔۔قرض۔

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الغصب،الباب الرابع عشر فی المتفرقات،ج۵،ص۱۵۷.

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الھبۃ،الباب الثالث فیمایتعلق بالتحلیل،ج۴،ص۳۸۲.
Flag Counter