کاریگر کو فرمائش دے کر چیزبنوانا،آرڈرپر چیز بنوانا۔
(بہارشریعت ،ج۲،حصہ ۱۱ ،ص۸۰۷)
اس سے مرادوہ لوگ ہیں جن کاحصہ میراث میں قرآن وحدیث اوراجماعِ امت کی روسے معین کر دیاگیاہے۔ انھیں ذوی الفروض بھی کہتے ہیں۔
(الشریفیۃ شرح السراجی،ص۸)
مخصوص جانور کو مخصوص دن میں بہ نیت تقرب(ثواب کی نیت سے)ذبح کرنا قربانی ہے اور کبھی اس جانور کو بھی اضحیہ اور قربانی کہتے ہیں جو ذبح کیا جاتا ہے۔
(بہارشریعت،ج۳،حصہ ۱۵،ص۳۲۷)
مسجد میں اللہ عزوجل کے لیے(اعتکاف کی)نیت کے ساتھ ٹھہرنا۔
(بہارشریعت،ج۱،حصہ ۵،ص۱۰۲۰)
دوشخصوں کے مابین جو عقد ہوا اس کے اُٹھادینے(ختم کر دینے)کو اقالہ کہتے ہیں،اقالہ میں دوسرے کا قبول کرنا ضروری ہے تنہا ایک شخص اقالہ نہیں کرسکتاہے ۔
(ماخوذ ازبہارشریعت ،ج۲،حصہ ۱۱،ص۷۳۴)
کسی کے ساتھ ناحق ایسا فعل کرناکہ وہ شخص ایسا کام کرے جس کو وہ کرنا نہیں چاہتااور کبھی مکرِہ(مجبور کرنے والے)کی جانب سے کوئی ایسا فعل نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے مکرَہ (مجبور کیا ہوا)اپنی مرضی کے خلاف کرے مگر مکرَہ جانتا ہے کہ یہ شخص ظالم ہے اگر میں نے نہ کیاتو جو کچھ کہتا ہے کرگزرے گا اس صورت میں بھی اکراہ ہے اسے لوگ جبر کرنا بھی کہتے ہیں۔
(بہارشریعت،ج۳،حصہ۵ا،ص۱۸۸)
مار ڈالنے یا عضو کاٹنے یا ضرب شدید(جس سے جان یا عضو کے تلف ہونے کا اندیشہ ہو) کی دھمکی دی جائے مثلاً کوئی کسی سے کہتا ہے کہ یہ کام کر، ورنہ تجھے مارتے مارتے بیکار کر دوں گا۔اس کواکراہ ملجی بھی کہتے ہیں۔
جس میں اس(مار ڈالنے یا عضو کاٹنے یا ضرب شدید)سے کم کی دھمکی ہو مثلاًپانچ جوتے ماروں گا یا پانچ کوڑے ماروں گا یا مکان میں بند کر دوں گا یا ہاتھ پاؤں باندھ کر ڈال دوں گااس کواکراہ غیرملجی بھی کہتے ہیں ۔
وہ لونڈی جس کے ہاں بچہ پیداہوااورمولیٰ(مالک)نے اقرار کیاکہ یہ میرابچہ ہے۔
(بہارشریعت،ج۲، حصہ ۹،ص294)
(۱)دوسرے شخص کو اپنے مال کی حفاظت پر مقرر کردینے کو ایداع کہتے ہیں اور اُس مال کو ودیعت کہتے ہیں جس کو عام طور پر امانت کہا جاتا ہے۔
(بہارشریعت،ج۳،حصہ ۱۴،ص۳۱)
(۲)امانت اُسے کہتے ہیں جس میں تلف پر(ضائع ہونے پر)ضمان نہیں ہوتا ہے عاریت اور کرایہ کی چیز کو بھی امانت کہتے ہیں مگر ودیعت خاص اُس کا نام ہے جو حفاظت کے لیے دی جاتی ہے۔