کسی شے کے نفع کا عوض کے مقابل کسی شخص کومالک کردینااجارہ ہے۔
عقد فاسد(اجارہ فاسد)وہ ہے جو اپنی اصل کے لحاظ سے موافق شرع(شریعت کے مطابق)ہے مگر اس میں کوئی وصف ایسا ہے جس کی وجہ سے نا مشروع ہے۔
وہ اجارہ جواپنی اصل ہی کے لحاظ سے خلاف شرع ہو۔
کسی شخص کوکسی کام کی وہ اُجرت(مزدوری)دیناجواس کام کے کرنے والے کوعام طور پر دی جاتی ہے۔
اُجرت پر کام کرنے والے کواجیر کہتے ہیں،ملازم،مزدور،نوکر۔
(بہارشریعت ،ج۳،حصہ ۱۴، ص۱۰۷)
وہ اجیر جو ایک سے زائد لوگوں کا کام کرتاہو،مثلاً دھوبی۔
کھانے کی چیز کو اس لیے روکنا(اسٹاک کرنا )کہ گراں(یعنی مہنگی)ہونے پرفروخت کریگا۔
(بہارشریعت ،ج۳،حصہ۱۶، ص۴۸۲)
ماں شریک بہن بھائی یعنی جن کی ماں ایک ہو اورباپ الگ الگ ہوں۔
وہ چار اصول جن پر علم فقہ کی بنیاد ہے یعنی کتاب اللہ،سنت رسول،اجماع امت،قیاس۔
وہ مال جومادون النفس(قتل کے علاوہ )میں لازم ہوتا ہے اور کبھی اَرش اور دیت کو بطور مترادف بھی بولتے ہیں۔
(بہارشریعت ،ج۳،حصہ۱۸، ص۸۳۰)
ایک دلیل کانام ہے جوقیاس کے مخالف ہوتاہے۔جب یہ قیاس سے اقوٰی ہو تو اسی پر عمل کیا جاتاہے۔ اس کو استحسان اسی لیے کہتے ہیں کہ عموماً یہ قیاس سے اقوٰی ہوتاہے ۔
(التعریفات،باب الالف،ص۱۷)