مرد کا اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دینا۔
(ماخوذ من الموسوعۃ الفقہیۃ،ج۲۹،ص۳۰)
جو شخص شفعہ کرنا چاہتا ہے جیسے ہی اس کو اُس جائداد کے فروخت ہونے کا علم ہو فوراً اُسی وقت یہ ظاہر کر دے کہ میں طالبِ شفعہ ہوں ۔
(بہارشریعت،ج۳،حصہ ۱۵،ص۲۴۰)
152 طلبِ تقریر طلب اِشہاد
شفیع(شفعہ کرنے والا)بائع یا مشتری یاجائداد مبیعہ(فروخت شدہ جائیداد)کے پاس جاکر گواہوں کے سامنے یہ کہے کہ فلاں شخص نے یہ جائداد خریدی ہے اور میں اس کا شفیع ہوں اور اس سے پہلے میں طلب شفعہ کرچکا ہوں اور اب پھر طلب کرتا ہوں تم لوگ اس کے گواہ رہو۔
(بہارشریعت،ج۳،حصہ ۱۵،ص۲۴۲-۲۴۳)
شفعہ کرنے والاقاضی کے پاس جاکریہ کہے کہ فلاں شخص نے فلاں جائداد خریدی ہے اور فلاں جائداد کے ذریعہ سے میں اُس کا شفیع ہوں وہ جائداد مجھے دلا دی جائے۔
(بہارشریعت،ج۳،حصہ ۱۵،ص۲۴۴)
اپنی زوجہ یااس کے کسی جزوشائع یاایسے جزکوجوکُل سے تعبیرکیاجاتاہوایسی عورت سے تَشْبِیْہ دینا جو اس پرہمیشہ کے لیے حرام ہویااس کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھناحرام ہومثلاًکہا تومجھ پرمیری ماں کی مثل ہے یاتیراسریاتیری گردن یاتیرانصف میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے۔
(بہارشریعت،ج۲، حصہ۸،ص۲۰۵)
دوسرے شخص کوکسی چیز کی مَنْفعَت کابغیرعوض مالک کردیناعاریت ہے۔
(بہارشریعت، ج۳،حصہ ۱۴،ص۵۴)
عاقلہ وہ لوگ کہلاتے ہیں جو قتل خطاء یا (قتلِ)شبہ عمد میں ایسے قاتل کی طرف سے دیت ادا کرتے ہیں جو ان کے متعلقین میں سے ہے اور یہ دیت اصالۃًواجب ہوئی ہو۔
(بہارشریعت، ج۳،حصہ۱۸،ص۹۱۳)