کسی کو قصداً قتل کرے مگراسلحہ یا جو چیزیں اسلحہ کے قائم مقام ہیں ان سے قتل نہ کرے مثلاً لاٹھی سے مار ڈالے۔
ایسا قتل جوخطأً سرزد ہوجائے،خطا چاہے فعل میں ہو یا گمان میں جیسے شکارکوگولی ماری اورکسی انسان کو جالگی یامرتد سمجھ کر قتل کیا لیکن وہ مسلمان تھا۔
192 قتل قائم مقام خطا (شِبْہِ خطا)
(ایسا قتل جس میں قاتل کے فعل اختیاری کو دخل نہ ہو)جیسے کوئی شخص سوتے میں کسی پرگرپڑا اوروہ مرگیا یا چھت سے کسی انسان پر گرا اوروہ مرگیا۔
(ایساقتل جس کاسبب قاتل کافعل ہومثلاً)کسی شخص نے دوسرے کی مِلک میں کنواں کھودا یا پتھر رکھ دیا یا راستہ میں لکڑی رکھ دی اور کوئی شخص کنویں میں گر کر یا پتھر اور لکڑی سے ٹھوکر کھا کر مر گیا۔
دَین کی ایک خاص صورت کا نام قرض ہے، جس کو لوگ دستگرداں کہتے ہیں۔
(حاشیہ بہارشریعت،ج۲، حصہ ۱۱،ص۷۵۲)
قسامت کا مطلب یہ ہے کہ کسی جگہ مقتول پایا جائے اور قاتل کا پتہ نہ ہو اور اولیائے مقتول اہل محلہ پر قتل عمد یاقتل خطا کا دعویٰ کریں اور اہل محلہ انکار کریں تو اس محلے کے پچاس آدمی قسم کھائیں کہ نہ ہم نے اس کو قتل کیا ہے اور نہ ہم قاتل کو جانتے ہیں۔
(بہارشریعت ،ج۳،حصہ۱۸،ص۸۹۹)
فاعل(یعنی ظالم)کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا جیسا اس نے(دوسرے کے ساتھ)کیا مثلاًہاتھ کاٹا تو اس کا بھی ہاتھ ہی کاٹا جائے ۔
قیراط اصل میں نصف دانق(یعنی درہم کابارھواں حصہ)ہے ۔
کسی چیز کے دام جو اس کے معیار کے مطابق ہوں اوران میں کمی بیشی نہ کی جائے۔
ہر وہ چیز جس کی مثل بازار میں نہ پائی جائے۔
وہ سزا جوکسی گناہ کی تلافی کے لیے شرعاً مقررہوتی ہے۔جیسے روزوں کا کفارہ۔