(بہارشریعت،ج۳،حصہ۱۴،ص۴۸۵)
اسے عصبہ سببی بھی کہتے ہیں۔
وہ چیز جو ہبہ(تحفہ)میں دی جائے۔
(بہارشریعت ،ج۳،حصہ۱۴،ص۶۸)
جس کو ہبہ دیا جائے اسے موہوب لہ کہتے ہیں۔
(بہارشریعت ،ج۳،حصہ۱۴،ص۶۸)
کوئی شخص مبیع(بیچی جانے والی چیز)کی قیمت بڑھائے اورخود خریدنے کاارادہ نہ رکھتا ہو اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ دوسرے گاہک کو رغبت پیدا ہواور قیمت سے زیادہ دے کر خریدلے اور یہ حقیقتہً خریدار کو دھوکا دینا ہے۔
(بہارشریعت ،ج۲،حصہ۱۱،ص۷۲۳)
(اونٹ کے)حلق کے آخری حصہ میں نیزہ وغیرہ بھونک کر(داخل کرکے)رگیں کاٹ دینا۔
(بہارشریعت،ج۳،حصہ ۱۵،ص۳۱۲)
نذراصطلاح شرع میں وہ عبادت مقصودہ ہے جوجنس واجب سے ہواوروہ خود بندہ پرواجب نہ ہو،مگربندہ نے اپنے قول سے اسے اپنے ذمہ واجب کرلیاہومثلاً یہ کہا کہ میرا یہ کام ہوجائے تو دس رکعت نفل ادا کروں گا اسے نذر شرعی کہتے ہیں۔
(ماخوذازفتاوی امجدیہ، حصہ ۲،ص۳۱۲)
اولیاء اللہ کے نام کی جونذرمانی جاتی ہے اسے نذرِ(عرفی اور)لغوی کہتے ہیں اس کامعنی نذرانہ ہے جیسے کوئی شاگرد اپنے استاد سے کہے کہ یہ آپ کی نذرہے یہ بالکل جائز ہے یہ بندوں کی ہوسکتی ہے مگراس کاپورا کرناشرعاًواجب نہیں مثلاًگیارہویں شریف کی نذراورفاتحہ بزرگان دین وغیرہ۔
نذر عرفی کو نذر لغوی بھی کہتے ہیں۔