مسئلہ ۱۵: ان میں سے ایک کو اگر میراث ملی یا شاہی عطیہ یا ہبہ یا صدقہ یا ہدیہ میں کوئی چیز ملی تو یہ خاص اسکی ہوگی شریک کا اس میں کوئی حق نہ ہوگا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: شرکت سے پہلے کوئی عقد کیا تھا اور اِس عقد کی وجہ سے بعد شرکت کسی چیز کا مالک ہوا تو اس میں بھی شریک حقدار نہیں مثلاًایک چیز خریدی تھی جس میں بائع نے اپنے ليے خیار لیا تھا (یعنی تین دن تک مجھ کو اختیار ہے کہ بیع قائم رکھوں یا توڑ دوں) اور بعدشرکت بائع نے اپنا خیار ساقط کردیا اور چیز مشتری کی ہوگئی مگر چونکہ یہ بیع پہلے کی ہے اس ليے یہ چیز تنہا اسی کی ہے شرکت کی نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: اگر ایک کے پاس مال مضاربت ہے، اگرچہ عقد مضاربت پہلے ہوا ہے اور اب اس مال سے خرید و فروخت کی اور نفع ہو ا تو جو کچھ نفع ملے گا اُس میں سے شریک بھی اپنے حصہ کی مقدار سے لے گا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: چونکہ اِن میں ہر ایک دوسرے کا کفیل ہے، لہٰذا ایک پر جو دین لازم آیا دوسرااسکا ضامن ہے دوسرے پربھی وہ دین لازم ہے اور اِس دوسرے سے بھی دائن (4) مطالبہ کرسکتا ہے اب وہ دین خواہ تجارت کی وجہ سے لازم آیا ہو یا اُس نے کسی سے قرض (دستگردان) لیا ہو یا کسی کی کوئی چیز غصب کرکے ہلاک کردی ہو یا کسی کی امانت اپنے پاس رکھ کر قصداًاُسے ضائع کر دیا ہو یا امانت سے انکار کر دیا ہو یا کسی کی اسنے اُسکے کہنے سے ضمانت کی ہو اور یہ دین خواہ گواہوں کے ذریعہ سے دائن نے اسکے ذمہ ثابت کيے ہوں یا خود اس نے ان دیون (5) کا اقرار کیا ہو ہر حال میں اسکا شریک بھی ضامن ہے مگر جبکہ اسنے ایسے شخص کے دین کا اقرارکیا ہو جسکے حق میں اسکی گواہی مقبول نہ ہو مثلاًاپنے باپ دادا وغیرہ اصول یا بیٹا پوتا وغیرہ فروع یا زوج یا زوجہ کے حق میں تو اس اقرار سے جو دین ثابت ہوگا اُسکا مطالبہ شریک سے نہیں ہوسکتا۔(6) (درمختار وغيرہ)
مسئلہ ۱۹: مَہریا بدل خلع یا دیت یا دم عمد میں اگر کسی شے پر صلح ہوگئی تو یہ دیون شریک پر لازم نہ ہونگے۔(7) (درمختار)