| بہارِشریعت حصّہ دَہم (10) |
اور کسی نے کم اور کوئی دانائی و ہوشیاری سے کام کرتا ہے اور کوئی ایسا نہیں اور اگر ان شرکا میں سے بعض نے کوئی چیز خاص اپنے لیے خریدی اور اُس کی قیمت مال مشترک سے اداکی تو یہ چیز اُسی کی ہوگی مگر چونکہ قیمت مال ِمشترک سے دی ہے، لہٰذا بقیہ شرکا کے حصہ کا تاوان دینا ہوگا۔(1) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: شرکتِ مفاوضہ میں اگر دونوں کے مال ایک جنس(2) اور ایک نوع (3)کے ہوں تو عدد میں برابری ضرورہے۔ مثلاًدونوں کے روپے ہیں یا دونوں کی اشرفیاں ہیں اور اگر دو جنس یا دونوع کے ہوں تو قیمت میں برابری ہو مثلاًایک کے روپے ہیں دوسرے کی اشرفیاں یا ایک کے روپے ہیں دوسرے کی اٹھنّیاں چونّیاں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: عقد مفاوضہ کے وقت دونوں مال برابر تھے مگر ابھی اس مال سے کوئی چیز خریدی نہیں گئی کہ ایک کا مال قیمت میں زیادہ ہوگیا مثلاًاشرفی عقد کے وقت پندرہ ۱۵روپے کی تھی اور اب سولہ ۱۶ کی ہوگئی تو شرکت مفاوضہ جاتی رہی اور اب یہ شرکت عنان ہے۔ یوہیں اگر ان میں کسی ایک کاکسی پر قرض تھا اور بعد شرکت مفاوضہ وہ قرض وصول ہو گیا تو شرکت مفاوضہ جاتی رہی۔(5) (عالمگیری)(شرکت مفاوضہ کے احکام)
مسئلہ ۱۴: ایسے دو شخص جن میں شرکت مفاوضہ ہے ان میں اگر ایک شخص کوئی چیز خریدے تو دوسرا اُس میں شریک ہوگا البتہ اپنے گھر والوں کے لیے کھانا کپڑا خریدا یا کوئی اور چیز ضروریات خانہ داری (6) کی خریدی یا کرایہ کا مکان رہنے کے لیے لیا یا حاجت کے ليے سواری کا جانور خریدا تو یہ تنہا خریدار کا ہوگاشریک کو اس میں سے لینے کا حق نہ ہوگا مگر بائع شریک سے بھی ثمن کا مطالبہ کرسکتا ہے کہ یہ شریک کفیل ہے پھر اگر شریک نے مالِ شرکت سے ثمن ادا کردیا تو اُس خریدار سے اپنے حصہ کے برابرواپس لے سکتا ہے۔ (7) (درمختار)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فیما یقع کثیراً فی الفلاحین...إلخ،ج۶،ص۴۷۲. 2۔۔۔۔۔۔نسل،ذات ۔ 3۔۔۔۔۔۔قسم ۔ 4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الاول،ج۲،ص۳۰۸. 5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الأول،ج۲،ص۳۰۸. 6۔۔۔۔۔۔گھریلو ضروریات۔ 7۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۷۱.