Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دَہم (10)
495 - 607
    مسئلہ ۲۰: جن صورتوں میں ایک پر جو دین لازم آیا وہ دوسرے پر بھی لازم ہوان میں اگر دائن نے ایک پردعویٰ کیا ہے اور گواہ پیش نہ کرسکا تو جس طرح اس مدعی علیہ(1) پر حلف دے سکتا ہے (2) اِسی طرح اسکے شریک سے بھی حلف لے سکتا ہے اگرچہ شریک نے وہ عقد نہیں کیا ہے مگر دونوں سے حلف کی ایک ہی صورت نہیں بلکہ فرق ہے وہ یہ کہ جس پر دعویٰ ہے اُس سے یوں قسم کھلائی جائیگی کہ میں نے اس مدعی سے یہ عقد نہیں کیا ہے مثلاًاگر اُس کا یہ دعویٰ ہے کہ اس نےفلاں چیز مجھ سے خریدی ہے اور اُس کا ثمن اسکے ذمہ باقی ہے اوریہ منکرہے(3) تو قسم کھائے گا کہ میں نے اس سے یہ چیزنہیں خریدی ہے یا میرے ذمہ ثمن باقی نہیں ہے اور شریک سے عدم فعل کی(4) قسم نہیں کھلائی جاسکتی کیونکہ اُس نے خودعقد کیا نہیں ہے وہ قسم کھا جائے گا کہ میں نے نہیں خریدی پھر قسم کھلانے کا کیا فائدہ بلکہ اِس سے عدم علم (5) پرقسم کھلائی جائے یوں قسم کھائے کہ میرے علم میں نہیں کہ میرے شریک نے خریدی پھر اگر دونوں نے یا کسی ایک نے قسم کھانے سے انکار کیا توقاضی دونوں پر دَین لازم کردیگا۔ اور اگر دونوں نے عقد کیا ہے یعنی ایجاب وقبول میں دونوں شریک تھے تو دونوں پرعدم فعل ہی کی قسم ہے کہ اس صورت میں فقط ایک نے نہیں بلکہ دونوں نے خریدا ہے اورقسم سے ایک نے بھی انکار کیاتووہی حکم ہے۔ یوہیں مدعی (6)نے جس پر دعویٰ کیا ہے غائب ہے اور اس کا شریک حاضرہے تومدعی اس حاضرپر حلف دے سکتا ہے پھر جب وہ غائب آجائے تو اُسپر بھی مدعی حلف دے سکتا ہے۔ (7)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲۱: ان دونوں شریکوں میں سے ایک نے کسی پر دعویٰ کیا اور مدعی علیہ سے قسم کھلائی تو دوسرے شریک کو دوبارہ پھر اُس پر حلف دینے کا حق نہیں۔(8)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۲۲: ان دونوں میں سے ایک نے کسی شے کی حفاظت کرنے کی نوکری کی یا اُجرت پر کسی کا کپڑا سیا یا کوئی کام
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔جس پردعوی کیاجائے۔        2۔۔۔۔۔۔ قسم لے سکتاہے ۔

3۔۔۔۔۔۔یعنی انکارکرتاہے۔        4۔۔۔۔۔۔یعنی عقد نہ کرنے کی۔

5۔۔۔۔۔۔ معلوم نہ ہونے۔        6۔۔۔۔۔۔دعویٰ کرنے والا۔

7۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الثالث،ج۲،ص۳۱۰.

و''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب الشرکۃ،مطلب:فیما یقع کثیرًا فی الفلاحین...إلخ،ج۶،ص ۴۷۳،۴۷۴.

8۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الثانی فی المفاوضۃ،الفصل الثالث،ج۲،ص۳۱۰.
Flag Counter