| بہارِشریعت حصّہ دَہم (10) |
حدیث ۶: ابو داود وحاکم و رزین نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: کہ ''دو شریکوں کا ميں ثالث رہتا ہوں، جب تک اُن ميں کوئی اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت نہ کرے اور جب خیانت کرتا ہے تو ان سے جدا ہوجاتا ہوں۔'' (1)
حدیث ۷: امام بخاری و امام احمد نے روایت کی، کہ زیدبن ارقم و براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہما دونوں شریک تھے اور انھوں نے چاندی خریدی تھی، کچھ نقد کچھ اُدھار۔ حضوراقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خبر پہنچی تو فرمایا: کہ ''جو نقد خریدی ہے، وہ جائز ہے اور جو اُدھار خریدی، اُسے واپس کر دو۔'' (2)(شرکت کے اقسام اور اُن کی تعریفیں)
مسئلہ ۱: شرکت دو قسم ہے: شرکت ملک۔ شرکت عقد۔
شرکت ملک کی تعریف یہ ہے، کہ چند شخص ایک شے کے مالک ہوں ا ور باہم عقد شرکت نہ ہوا ہو۔
شرکت عقد یہ ہے، کہ باہم شرکت کا عقد کیا ہو مثلاًایک نے کہا ميں تیرا شریک ہوں، دوسرے نے کہا مجھے منظور ہے۔
شرکت ملک دو قسم ہے کہ(1) جبری(2) اختیاری۔
جبری یہ کہ دونوں کے مال ميں بلا قصد و اختيار(3) ایسا خلط ہو جائے(4) کہ ہر ایک کی چیز دوسرے سے متمیّز(5) نہ ہوسکے یا ہوسکے مگر نہایت دقت و دشواری سے مثلاًوراثت ميں دونوں کو ترکہ ملا کہ ہر ایک کاحصّہ دوسرے سے ممتاز نہیں یا دونوں کی چیز ایک قسم کی تھی اور مل گئی کہ امتیاز نہ رہا یا ایک کے گیہوں تھے دوسرے کے جَو اور مل گئے تو اگرچہ یہاں علیحدگی ممکن ہے مگر دشواری ضرور ہے۔
اختیاری یہ کہ ان کے فعل و اختيار سے شرکت ہوئی ہو مثلاًدونوں نے شرکت کے طور پر کسی چیز کو خریدا یا ان کو ہبہ اور صدقہ ميں ملی اور قبول کیا یا کسی نے دونوں کو وصیت کی اور انھوں نے قبول کی یا ایک نے قصداًاپنی چیز دوسرے کی چیز ميں ملا دی کہ امتیاز جاتا رہا۔(6)(عالمگیری، درمختار وغیرہما)ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب البیوع،باب الشرکۃ،الحدیث:۳۳۸۳،ج۳،ص۳۵۰. 2۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب الشرکۃ،باب الاشتراک في الذہب...إلخ،الحدیث:۲۴۹۷،ج۲،ص۱۴۴. 3۔۔۔۔۔۔یعنی خود بخود،بغیرکسی ارادہ کے ۔ 4۔۔۔۔۔۔آپس میں اس طرح مل جائے۔ 5۔۔۔۔۔۔ممتاز،فرق،الگ،جدا۔ 6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الہندیۃ''،کتاب الشرکۃ،الباب الأوّل فی بیان انواع الشرکۃ...إلخ،الفصل الأوّل،ج۲،ص۳۰۱. و''الدرالمختار''،کتاب الشرکۃ،ج۶،ص۴۶۰۔۴۶۸،وغیرھما.