Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دَہم (10)
486 - 607
خود دیدیا تو تاوان دینا پڑیگا اور مدیون نے دیا تو دَین سے بَری نہ ہوا بلکہ پھر دینا پڑیگا۔ (1) (بحرالرائق) 

    مسئلہ ۴: مفقود پر جن لوگوں کا نفقہ واجب ہے یعنی اُسکی زوجہ اور اصول(2) و فروع(3) اُن کو نفقہ اُسکے مال سے دیا جائیگا یعنی روپیہ اور اشرفی یا سونا چاندی جو کچھ گھر ميں ہے یا کسی کے پاس امانت یا دَین ہے اِن سے نفقہ دیا جائے اور نفقہ کے ليے جائداد منقولہ یا غیر منقولہ بیچی نہ جائے ہاں اگر کوئی ایسی چیز ہے جس کے خراب ہونے کا اندیشہ ہے تو قاضی اُسے بیچ کر ثمن محفوظ رکھے گا اور اب اس ميں سے نفقہ بھی دیا جاسکتا ہے۔(4)(عالمگیری،درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۵: مفقود اور اُسکی زوجہ ميں تفریق اُ س وقت کی جائیگی کہ جب ظن غالب یہ ہو جائے کہ وہ مرگیا ہوگا اور اُسکی مقدار یہ ہے کہ اُسکی عمر سے ستّر ۷۰ برس گزرجائیں اب قاضی اُسکی موت کا حکم دیگا اور عورت عدت وفات گزار کر نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے اور جو کچھ املاک ہیں اُن لوگوں پر تقسیم ہونگے جو اس وقت موجود ہیں۔ (5) (فتح القدیر) 

    مسئلہ ۶: دوسروں کے حق ميں مفقود مردہ ہے یعنی اس زمانہ ميں کسی کا وارث نہیں ہوگا مثلاً ایک شخص کی دو لڑکیاں ہیں اور ایک لڑکا اور اسکے بھی بیٹے اور بیٹیا ں ہیں لڑکا مفقود ہو گیا اسکے بعد وہ شخص مرا تو آدھامال لڑکیوں کو دیا جائے اور آدھا محفوظ رکھا جائے اگر مفقود آجائے تو یہ نصف اُسکا ہے ورنہ حکمِ موت کے بعد اس نصف کی ایک تہائی مفقود کی بہنوں کو دیں اور دو تہائیاں مفقود کی اولاد پر تقسیم کریں۔ (6) (فتح القدیر) 

    یعنی دوسروں کے اموال لینے کے ليے مفقود مردہ تصور کیا جائے مورث کی موت کے وقت جو لوگ زندہ تھے وہی وارث ہونگے مفقود کو وارث قرار دیکر اسکے ورثہ کو وہ اموال نہیں ملیں گے۔(7) (درمختار) یہ اُسوقت ہے کہ جب سے گم ہوا ہے اُسکا اب تک کوئی پتہ نہ چلا ہو اور اگر درمیان ميں کبھی اُسکی زندگی کاعلم ہوا ہے تو اس وقت سے پہلے جو لوگ مرے ہیں اُن کا وارث ہے بعد ميں جو مریں گے اُن کا وارث نہیں ہوگا۔(8)(بحرالرائق)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب المفقود،ج۵،ص۲۷۴۔۲۷۶.

2۔۔۔۔۔۔یعنی ماں ،باپ،دادا،دادی وغیرہ،    3۔۔۔۔۔۔یعنی بیٹا ،بیٹی،پوتا،پوتی وغیرہ۔

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب المفقود،ج۲،ص۳۰۰.

و''الدرالمختاروردالمحتار''،کتاب المفقود،مطلب:قضاء القاضی ثلاثۃ اقسام،ج۶،ص۴۵۱.

5۔۔۔۔۔۔''فتح القدیر''،کتاب المفقود،ج۵،ص۳۷۴.

6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

7۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب المفقود،ج۶،ص۴۵۶.

8۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب المفقود،ج۵،ص۲۷۸.
Flag Counter