Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دَہم (10)
485 - 607
اُس کو صبر کرنا چاہیے، جب تک موت یا طلاق کی خبر نہ آئے۔(1) اور حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے بھی ایسا ہی مروی ہے، کہ اُس کو ہمیشہ انتظار کرنا چاہيے(2) اور ابوقلابہ و جابر بن یزید و شعبی و ابراہیم نخعی رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کا بھی یہی مذہب ہے۔(3)
مسائل فقہیّہ
    مفقود اُسے کہتے ہیں جس کا کوئی پتا نہ ہو یہ بھی معلوم نہ ہو کہ زندہ ہے یا مرگیا۔ (4)

    مسئلہ ۱: مفقود خود اپنے حق ميں زندہ قرار پائیگا، لہٰذا اُس کا مال تقسیم نہ کیا جائے اور اُسکی عورت نکاح نہيں کرسکتی اور اُس کا اجارہ فسخ نہ ہوگااور قاضی کسی شخص کو وکیل مقرر کردیگا کہ اُس کے اموال کی حفاظت کرے اور اُسکی جائداد کی آمدنی وصول کرے اور جن دیون کا قرضداروں نے خود اقرار کیا ہے اُنھیں وصول کرے اور اگروہ شخص اپنی موجود گی ميں کسی شخص کو ان امور(5) کے ليے وکیل مقرر کرگیا ہے تو یہی وکیل سب کچھ کریگا قاضی کو بلا ضرورت دوسر ا وکیل مقرر کرنے کی حاجت نہیں۔(6) (درمختار) 

    مسئلہ ۲: قاضی نے جسے وکیل کیا ہے اُسکا صرف اتنا ہی کام ہے کہ قبض کرے اور حفاظت ميں رکھے مقدمات کی پیروی نہیں کرسکتا یعنی اگر مفقود پر کسی نے دَین (7)یا ودیعت(8) کا دعویٰ کیا یا اُسکی کسی چیز ميں شرکت کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ وکیل جوابدہی نہیں کرسکتا اور نہ خود کسی پر دعویٰ کرسکتا ہے ہاں اگر ایسا دَین ہو جو اسکے عقد سے لازم ہواہو تو اس کا دعویٰ کرسکتا ہے۔(9)(ہدایہ، درمختار) 

    مسئلہ ۳: مفقود کامال جسکے پاس امانت ہے یا جس پر دَین ہے یہ دونوں خود بغیر حکم قاضی ادا نہیں کرسکتے اگر امین نے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ



1۔۔۔۔۔۔''المصنف''،لعبد الرزاق،باب التی لا تعلم مہلک زوجہا ،الحدیث:۱۲۳۷۸،ج۷،ص۶۷.

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،الحدیث:۱۲۳۸۱.

3۔۔۔۔۔۔''فتح القدیر''،کتاب المفقود،ج۵،ص۳۷۲.

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب المفقود،ج۶،ص۴۴۸.

5۔۔۔۔۔۔معاملات،ان کاموں۔

6۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب المفقود،ج۶،ص۴۴۸.

7۔۔۔۔۔۔قرض۔    8۔۔۔۔۔۔ امانت۔

9۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب المفقود،ج۶،ص۴۵۰.

و''الھدایۃ''،کتاب المفقود،ج۱،ص۴۲۳.
Flag Counter