ديدے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: لقطہ پر خرچ کرنے کی قاضی سے اجازت طلب کی تو قاضی گواہ طلب کریگا اگر گواہوں سے لقطہ ہونا ثابت ہوگیا تو مصارف کی اجازت دے گا ورنہ نہیں اور اگر ملتقط(2) کہتا ہے میرے پاس گواہ نہیں ہیں تو قاضی یہ حکم دے گا کہ اگر تو سچّاہے اس پر خرچ کر ،مالک آئیگا تو وصول کرلینا اور اگر تو غاصب(3)ہے تو کچھ نہ ملے گا۔ (4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۳: لقطہ اگر ایسی چیز ہو جس سے منفعت حاصل ہوسکتی ہے مثلاً بیل گدھا گھوڑا کہ ان کو کرایہ پر دیکر اُجرت حاصل کرسکتا ہے تو حاکم کی اجازت سے کرایہ پر دے سکتا ہے اور جو اُجرت حاصل ہو اسی ميں سے اُسے خوراک بھی دیجائے اور اگر ایسی چیز لقطہ ہو جس سے آمدنی نہ ہواور سردست(5)مالک کا پتا نہیں چلتا اور اس پر خرچ کرنے ميں مالک کا نقصان ہے کہ کُچھ دنوں ميں اپنی قیمت کی قدر (6)کھاجائے گا تو قاضی اس کو بیچ کر اسکی قیمت محفوظ رکھے کہ اسی ميں مالک کانفع ہے اور قاضی نے بیع کی یا قاضی کے حکم سے ملتقط نے ،تو یہ بیع نافذ ہے مالک اس بیع کو رد نہیں کرسکتا۔(7) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۲۴: لقطہ ایسی چیز تھی جس کے رکھنے ميں مالک کا نقصان تھا۔ اُسے خود ملتقط نے بغیر اجازت قاضی بیچ ڈالا تو یہ بیع نافذ نہ ہوگی بلکہ اجازتِ مالک پر موقوف رہے گی اگر مالک آیا اور چیز مشتری(8)کے پاس موجود ہے تو اُسے اختیار ہے۔ بیع کو جائز کرے یا باطل کردے اور چیز اُس سے لے لے اور اگر مالک اُس وقت آیا کہ مشتری کے پاس وہ چیز نہ رہی تو اُسے اختیارہے کہ مشتری سے اُس کی قیمت کا تاوان لے یا بائع(9)سے، اگربائع سے تاوان لے گا تو بیع نافذ ہوجائے گی اور زرِثمن(10) بائع کا ہوگا مگر زرِثمن جتنا قیمت سے زائد ہواْسے صدقہ کردے۔(11) (فتح القدیر)