Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دَہم (10)
477 - 607
    مسئلہ ۱۷: کوئی ایسی چیز پائی جو بے قیمت ہے جیسے کھجور کی گٹھلی انار کا چھلکا ایسی اشیاء ميں اعلان کی حاجت نہیں کیونکہ معلوم ہوتا ہے اِسے چھوڑدینا اباحت ہے کہ جو چاہے لے لے اور اپنے کام ميں لائے اور یہ چھوڑنا تملیک(1) نہیں کہ مجہول(2)کی طرف سے تملیک صحیح نہیں، لہٰذا وہ اب بھی مالک کی مِلک ميں باقی ہے۔ (3) (ردالمحتار) اور بعض فقہا یہ فرماتے ہیں کہ یہ حکم اُسوقت ہے کہ وہ متفرق(4) ہوں اور اگر اکھٹی ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ مالک نے کام کے لیے جمع کر رکھی ہیں، لہٰذا محفوظ رکھے خرچ نہ کرے۔(5) (بحرالرائق) 

    مسئلہ ۱۸: لقطہ کی نسبت اگر معلوم ہے کہ یہ ذمی کی چیز ہے تو اِسے بیت المال ميں جمع کردے خود اپنے تصرف(6)ميں نہ لائے نہ مساکین کو دے۔(7) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۹: اگر مالک کے پتہ چلنے کی اُمید ہے اور ملتقط کے مرنے کا وقت قریب آگیا تو وصیت کرجانا یعنی یہ ظاہر کردینا کہ یہ لقطہ ہے واجب ہے۔(8) (درمختار) 

    مسئلہ ۲۰: ملتقط کو لقطہ کی کوئی اُجرت نہیں ملے گی اگرچہ کتنی ہی دور سے اُٹھا لایا ہو اور لقطہ اگر جانورہو اور اُس کے کھلانے ميں کچھ خرچ کیا ہو تو اس کامعاوضہ بھی نہیں پائے گا ہاں اگر قاضی کی اجازت سے ہواوراُس نے کہدیا ہو کہ اس پر خرچ کرو جوکچھ خرچ ہوگا مالک سے وصول کرلینا تو اب مصارف(9)لے سکتا ہے۔ (10) (بحرالرائق) 

    مسئلہ ۲۱: جوکچھ حاکم کی اجازت سے خرچ کیا ہے اسے وصول کرنے کے ليے لقطہ کو مالک سے روک سکتا ہے مصارف دینے کے بعد وہ لے سکتا ہے اورنہ دے تو قاضی لقطہ کو بیچ کر مصارف ادا کردے اور جو بچے مالک کو
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔دوسرے کو مالک بنانا۔      2۔۔۔۔۔۔نامعلوم۔

3۔۔۔۔۔۔''ردالمحتار''،کتاب اللقطۃ،مطلب:فیمن وجد حطباً...إلخ،ج۶،ص۴۳۵.

4۔۔۔۔۔۔ بکھری ہوئی۔

5۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۵۶.

6۔۔۔۔۔۔استعمال۔

7۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۲۸.

8۔۔۔۔۔۔المرجع السابق.

9۔۔۔۔۔۔اخراجات۔

10۔۔۔۔۔۔''البحرالرائق''،کتاب اللقطۃ،ج۵،ص۲۶۰.
Flag Counter