اُٹھا ؤں گا تو یہ چیز ضائع و ہلاک ہو جائے گی تو اُٹھا لینا ضرور ہے لیکن اگر نہ اٹھاوے اور ضائع ہو جائے تو اس پر تاوان نہیں۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: لقطہ کو اپنے تصرف(2)ميں لانے کے ليے اُٹھا یا پھر نادم ہوا کہ مجھے ایسا کرنا نہ چاہیے اور جہاں سے لایا وہیں رکھ آیا تو بری الذمہ نہ ہوگا یعنی اگر ضائع ہوگیا تو تاوان دینا پڑے گا بلکہ اب اس پر لازم ہے کہ مالک کو تلاش کرے اور اُس کے حوالہ کردے اور اگر مالک کو دینے کے ليے لایا تھا پھر جہاں سے لایا تھا رکھ آیا تو تاوان نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳: ہر قسم کی پڑی ہوئی چیز کا اُٹھا لانا جائز ہے مثلاً متاع(4) یا جانور بلکہ اُونٹ کو بھی لا سکتا ہے کیونکہ اب زمانہ خراب ہے یہ نہ لائے گا تو کوئی دوسرا لے جائے گا اور مالک کو نہ دے گا بلکہ ہضم کر جائیگا۔(5) (فتح وغیرہ)
مسئلہ ۴: لقطہ(6) ملتقط(7) کے ہاتھ ميں امانت ہے یعنی تلف(8) ہو جائے تو اس پر تاوان نہیں بشرطیکہ اُٹھا نے والا اُٹھانے کے وقت کسی کو گواہ بنادے یعنی لوگوں سے کہدے کہ اگر کوئی شخص اپنی گٌمی ہوئی چیز تلاش کرتا آئے تو میرے پاس بھیج دینا اور گواہ نہ کیا تو تلف ہونے کی صورت ميں تاوان دینا پڑے گا مگر جبکہ وہاں کوئی نہ ہواور گواہ بنانے کا موقع نہ ملا یا اندیشہ ہو کہ گواہ بنائے تو ظالم چھین لے گا تو ضمان نہیں۔ (9) (تبیین، بحر)
مسئلہ ۵: پڑا مال اوٹھا لایا اور اس کے پاس سے ضائع ہو گیا اب مالک آیا اور چیز کا مطالبہ کرتا ہے اور تاوان مانگتا ہے کہتا ہے کہ تم نے بدنیتی سے اپنے صرف ميں لانے کے ليے اُٹھا یا تھا، لہٰذا تم پر تاوان ہے یہ جواب دیتا ہے کہ ميں نے اپنے لیے نہیں اُٹھا یا تھا بلکہ اس نیت سے لیا تھا کہ مالک کو دوں گا تو محض اس کہنے سے ضمان سے بری نہیں جب تک بصورت امکان گواہ نہ کرے۔ (10) (ہدایہ)