Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ دَہم (10)
473 - 607
اﷲ (عزوجل) کی ضمانت کافی ہے اس نے کہا، تُو نے سچ کہا اور ایک ہزار دینار اُسے دیدے اور ادا کی ایک میعاد مقرر کردی۔ اُس شخص نے سمندر کا سفر کیا اور جو کام کرنا تھا انجام کو پہنچا یا پھر جب میعا د پوری ہونے کا وقت آیا تو اُس نے کشتی تلاش کی کہ جاکر اُس کا دَین(1) ادا کرے مگر کوئی کشتی نہ ملی، نا چاراُس نے ایک لکڑی ميں سوراخ کرکے ہزار اشرفیاں بھر دیں اور ایک خط لکھ کر اُس ميں رکھا اور خوب اچھی طرح بند کردیا پھر اس لکڑی کو دریا کے پاس لایا اور یہ کہا، اے اﷲ! (عزوجل) تو جانتا ہے کہ ميں نے فلاں شخص سے قرض طلب کیا، اُس نے کفیل مانگا ميں نے کہا کفٰی باللہ کفیلًا وہ تیری کفالت پر راضی ہوگیا پھر اُس نے گواہ مانگا ميں نے کہا کفی باللہ شھیدًا وہ تیری گواہی پر راضی ہوگیا اور ميں نے پوری کوشش کی کہ کوئی کشتی مل جائے تو اُس کا دَین پہنچا دوں، مگر میسر نہ آئی اور اب یہ اشرفیاں ميں تجھ کو سپرد کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ لکڑی دریا ميں پھینک دی اور واپس آیا مگر برابر کشتی تلاش کرتا رہا کہ اُس شہر کو جائے اور دَین ادا کرے۔ اب وہ شخص جس نے قرض دیا تھا ایک دن دریا کی طرف گیا کہ شاید کسی کشتی پر اس کا مال آتا ہوکہ دفعۃً(2) وہی لکڑی ملی جس ميں اشرفیاں بھری تھیں۔ اُس نے یہ خیال کرکے کہ گھر ميں جلانے کے کام آئے گی اُس کو لے لیا، جب اُس کو چیرا تو اشرفیاں اور خط ملا پھر کچھ دنوں بعد وہ شخص جس نے قرض لیا تھا، ہزار دینار لیکر آیا اور کہنے لگا، خدا کی قسم! ميں برابر کوشش کرتا رہا کہ کوئی کشتی مل جائے تو تمھارا مال تم کو پہنچا دوں مگر آج سے پہلے کوئی کشتی نہ ملی۔ اُس نے کہا، کیا تم نے میرے پاس کوئی چیز بھیجی تھی؟ اس نے کہا، ميں کہہ تو رہا ہوں کہ آج سے پہلے مجھے کوئی کشتی نہیں ملی۔ اُس نے کہا، جو کچھ تم نے لکڑی ميں بھیجا تھا، خدا نے اُس کو تمھاری طرف سے پہنچادیا، یہ اپنی ایک ہزار اشرفیاں لیکر بامراد واپس ہوا۔ (3)
مسائل فقہيہ
    لقطہ اُس مال کو کہتے ہیں جو پڑا ہوا کہیں مل جائے۔ (4)

    مسئلہ ۱: پڑا ہو امال کہیں ملا اور یہ خیال ہو کہ ميں اس کے مالک کو تلاش کرکے دیدوں گا تو اُٹھا لینا مستحب ہے اور اگر اندیشہ ہوکہ شاید ميں خود ہی رکھ لوں اور مالک کو نہ تلاش کروں تو چھوڑ دینا بہتر ہے اور اگر ظن غالب(5) ہو کہ مالک کو نہ دونگا تو اُٹھا نا نا جائز ہے اور اپنےلیے اُٹھانا حرام ہے اور اس صورت ميں بمنزلہ غصب کے ہے(6) اور اگر یہ ظن غالب ہو کہ ميں نہ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔قرض۔        2۔۔۔۔۔۔اچانک۔

3۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب الکفالۃ،باب الکفالۃ في القرض...إلخ،الحدیث:۲۲۹۱،ج۲،ص۷۳. 

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب اللقطۃ،ج۶،ص۴۲۱.

5۔۔۔۔۔۔یعنی غالب گمان۔    6۔۔۔۔۔۔یعنی غصب کرنے کی طرح ہے۔
Flag Counter