نہیں ہوگی اور یہ بھی فائدہ ہے کہ مالک اس سے یہ مطالبہ نہیں کرسکتا کہ یہ چیز اتنی ہی نہ تھی بلکہ اس سے زیادہ تھی۔
حدیث ۵: ابو داود نے ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ علی بن ابی طالب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک مرتبہ ایک دینار پایا۔ اُسے فاطمہ زہرارضی اﷲ تعالیٰ عنہاکے پاس لائے اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کیا (یعنی اس وقت ان کو ضرورت تھی یہ پوچھا کہ صرف(1) کرسکتا ہوں یا نہیں؟) ارشاد فرمایا: یہ اﷲ (عزوجل) نے رزق دیا ہے خود رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی اس سے کھایا اور علی و فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہانے بھی کھایا پھر ایک عورت دینار ڈھونڈتی آئی، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ''اے علی وہ دینار اسے دیدو۔'' (2)
حدیث ۶: صحیح بخاری و مسلم ميں زید بن خالد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، ایک شخص رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت ميں حاضر ہوا اور اُس نے لقطہ کے متعلق سوال کیا؟ ارشاد فرمایا: ''اُس کے ظرف (یعنی تھیلی) اور بندش(3) کو شناخت کرلو پھر ایک سال اس کی تشہیر کرو، اگر مالک مل جائے تو دیدو، ورنہ تم جو چاہوکرو۔'' اُس نے دریافت کیا، گم شدہ بکری کاکیا حکم ہے؟ ارشاد فرمایا: ''وہ تمھارے ليے ہے یا تمھارے بھائی کے لیے یا بھیڑیے کے ليے۔'' (یعنی ا س کا لینا جائز ہے کہ کوئی نہیں لے گا تو بھیڑیا لے جائے گا) اُس نے دریافت کیا، گم شدہ اُونٹ کا کیا حکم ہے؟ ارشاد فرمایا: ''تم اُسے کیا کرو گے، اُس کے ساتھ اُس کی مشک اور جوتا ہے، وہ پانی کے پاس آکر پانی پی لے گا اور درخت کھاتا رہے گا یہاں تک اُس کا مالک پاجائے گا۔'' (4)یعنی اُس کے لینے کی اجازت نہیں۔
حدیث ۷: ابو داود نے جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں ہميں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے عصا اور کوڑے اور رسی اور اس جیسی چیزوں کو اُٹھا کر اسے کام ميں لانے کی رخصت دی ہے۔ (5)
حدیث ۸: صحیح بخاری شریف ميں ابو ہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ''بنی اسرائیل ميں سے ایک شخص نے دوسرے سے ایک ہزار دینار قرض مانگے، اس نے کہا گواہ لاؤ جن کو گواہ بنالوں۔ اُس نے کہا، کفٰی باللہ شھیدًااﷲ (عزوجل) کی گواہی کافی ہے۔ اس نے کہا، کسی کو ضامن لاؤ۔ اُس نے کہا کفٰی باللہ کفیلًا