| بہارِشریعت حصّہ دَہم (10) |
مسئلہ ۱۸: لقیط اگر سمجھ وال ہونے سے پہلے مر جائے تو اُس کے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی اُس کو مسلمان اُٹھالایاہو یا کافر(1)(خلاصہ) ہاں اگر کافر نے اسے ایسی جگہ پایا ہے جوخاص کافروں کی جگہ ہے مثلاً بُت خانہ ميں تو اس کے جنازہ کی نماز نہ پڑھی جائے۔(2) (فتح)
لقطہ کا بيان
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف و مسند امام احمد ميں زید بن خالد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص کسی کی گم شدہ چیز کو پناہ دے (اوٹھائے)، وہ خود گمراہ ہے اگر تشہیر کاا رادہ نہ رکھتا ہو۔'' (3)
حدیث ۲: دارمی نے جارود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے'' (4) یعنی اس کا اٹھا لینا سبب عذاب ہے، اگر یہ مقصود ہو کہ خود مالک بن بیٹھے۔
حدیث ۳: بزار و دارقطنی نے ابو ہريرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے لقطہ کے متعلق سوال ہوا؟ ارشاد فرمایا: ''لقطہ حلال نہیں اور جو شخص پڑا مال اٹھائے اُسکی ایک سال تک تشہیر کرے، اگر مالک آجائے تو اسے دیدے اور نہ آئے تو صدقہ کر دے۔'' (5)
حدیث ۴: امام احمد و ابو داود و دارمی عیاض بن حمار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص پڑی ہوئی چیز پائے تو ایک یا دو عادل کو اُٹھاتے وقت گواہ کرلے اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے پھر اگر مالک مل جائے تو اُسے دیدے، ورنہ اﷲ (عزوجل) کا مال ہے، وہ جسکو چاہتا ہے دیتا ہے۔'' (6) اس حدیث ميں گواہ کرلینے کا حکم اس مصلحت سے ہے کہ جب لوگوں کے علم ميں ہوگا تو اب اس کانفس یہ طمع نہیں کرسکتا کہ ميں اِسے ہضم کر جاؤں اور مالک کو نہ دوں اور اگر اس کا اچانک انتقال ہو جائے یعنی ورثہ سے نہ کہہ سکا کہ یہ لقطہ ہے تو چونکہ لوگوں کو لقطہ ہونا معلوم ہے ترکہ ميں شمارلقطہ کا بيان
حدیث ۱: صحیح مسلم شریف و مسند امام احمد ميں زید بن خالد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص کسی کی گم شدہ چیز کو پناہ دے (اوٹھائے)، وہ خود گمراہ ہے اگر تشہیر کاا رادہ نہ رکھتا ہو۔'' (3)
حدیث ۲: دارمی نے جارود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے'' (4) یعنی اس کا اٹھا لینا سبب عذاب ہے، اگر یہ مقصود ہو کہ خود مالک بن بیٹھے۔
حدیث ۳: بزار و دارقطنی نے ابو ہريرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے لقطہ کے متعلق سوال ہوا؟ ارشاد فرمایا: ''لقطہ حلال نہیں اور جو شخص پڑا مال اٹھائے اُسکی ایک سال تک تشہیر کرے، اگر مالک آجائے تو اسے دیدے اور نہ آئے تو صدقہ کر دے۔'' (5)
حدیث ۴: امام احمد و ابو داود و دارمی عیاض بن حمار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''جو شخص پڑی ہوئی چیز پائے تو ایک یا دو عادل کو اُٹھاتے وقت گواہ کرلے اور اسے نہ چھپائے اور نہ غائب کرے پھر اگر مالک مل جائے تو اُسے دیدے، ورنہ اﷲ (عزوجل) کا مال ہے، وہ جسکو چاہتا ہے دیتا ہے۔'' (6) اس حدیث ميں گواہ کرلینے کا حکم اس مصلحت سے ہے کہ جب لوگوں کے علم ميں ہوگا تو اب اس کانفس یہ طمع نہیں کرسکتا کہ ميں اِسے ہضم کر جاؤں اور مالک کو نہ دوں اور اگر اس کا اچانک انتقال ہو جائے یعنی ورثہ سے نہ کہہ سکا کہ یہ لقطہ ہے تو چونکہ لوگوں کو لقطہ ہونا معلوم ہے ترکہ ميں شمارـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔''خلاصۃ الفتاوی''،کتاب اللقیط،ج۴،ص۴۳۴. 2۔۔۔۔۔۔''فتح القدیر''،کتاب اللقیط،ج۵،ص۳۴۶. 3۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب اللقطۃ،باب في لقطۃ الحاج،الحدیث:۱۲ـ(۱۷۲۵)،ص۹۵۰. 4۔۔۔۔۔۔''سنن الدارمي''،کتاب البیوع،باب في الضالۃ،الحدیث:۲۶۰۱،ج۲،ص۳۴۴. 5۔۔۔۔۔۔''سنن الدارقطنی''،کتاب الرضاع،الحدیث۴۳۴۳،ج۴،ص۲۱۵. 6۔۔۔۔۔۔''سنن أبيداود''،کتاب اللقطۃ،[باب] التعریف باللقطۃ،الحدیث:۱۷۰۹،ج۲،ص۱۹۰.