مسئلہ ۱۲: لقیط کے ہمراہ کچھ مال ہے یا لقیط کسی جانور پر ملا اور اُس جانور پر کچھ مال بھی ہے تو مال لقیط کا ہے، لہٰذا یہ مال لقیط پر صرف کیا جائے مگر صرف کرنے کے لیے قاضی سے اجازت لینی پڑے گی۔ اور وہ مال اگر لقیط کے ہمراہ نہیں بلکہ قریب ميں ہے تو لقیط کا نہیں بلکہ لقطہ ہے(1) (جس کا بیان آگے آتا ہے) ۔(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۱۳: ملتقط نے بغیر حکم قاضی جو کچھ لقیط پر خرچ کیا اس کا کوئی معاوضہ نہیں پاسکتا اور قاضی نے حکم دے دیا ہو کہ جو کچھ خرچ کریگا وہ دَین(2)ہوگا اور اُس کا معاوضہ ملے گا اگر لقیط کا کوئی باپ ظاہر ہو ا تو اُس کو دینا پڑے گا ور نہ بالغ ہونے کے بعد لقیط دے گا۔(3) (فتح، عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: لقیط پر خرچ کرنے کی ولایت ملتقط کو ہے اور کھانے پینے لباس وغیرہ ضروری اشیاء خریدنے کی ضرورت ہوتو اس کا ولی بھی ملتقط ہے لقیط کی کوئی چیز بیع نہیں کرسکتا نہ کوئی چیز بے ضرورت اُدھار خریدسکتا ہے۔(4) (ہدایہ، فتح القدیر)
مسئلہ ۱۵: لقیط کو کسی نے کوئی چیز ہبہ کی(5) یا صدقہ کیا توملتقط کو قبول کرنے کا حق ہے کیونکہ یہ تو نرا فائدہ ہی فائدہ ہے اس ميں نقصان اصلاً نہیں۔(6) (ہدایہ، فتح)
مسئلہ ۱۶: لقیط کو علم دین کی تعلیم دلائیں اور علم حاصل کرنے کی صلاحیت اس ميں نظر نہ آئے تو کام سِکھانے کے ليے صنعت وحرفت(7) کے اُستادوں کے پاس بھیج دیں تاکہ کام سیکھ کر ہوشیار ہو اور کام کاآدمی بنے، ورنہ بیکار ی ميں نکمّا ہو جائے گا۔(8) (ردالمحتار وغیرہ)
مسئلہ ۱۷: ملتقط کو یہ اختیار نہیں کہ لقیط کانکاح کردے اور اصح یہ ہے کہ اسے اجارہ پربھی نہیں دے سکتا۔ (9)(ہدایہ)