قرار دیا جائے۔ یوہیں اگر ایک آزاد ہے اور ایک غلام تو آزاد کا لڑکا قرار دیا جائے۔(1) (ہدایہ)
مسئلہ ۷: خاوند والی عورت لقیط کی نسبت دعویٰ کرے کہ یہ میرا بچہ ہے اور اُس کے شوہر نے تصدیق کی یا دائی نے شہادت دی یا دومرد یا ایک مرداور دو عورتوں نے ولادت پر گواہی دی تو اُسی کا بچہ ہے اور اگر یہ باتیں نہ ہوں تو عورت کا قول مقبول نہیں۔ اور بے شوہر والی عورت نے دعویٰ کیا تو دو مردوں کی شہادت سے اُس کا بچہ قرار پائیگا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۸: مُلتقِط (یعنی اُٹھا لانے والے) سے لقیط کو جبراً کوئی نہیں لے سکتا قاضی و بادشاہ کو بھی اس کا حق نہیں ہاں اگر کوئی سبب خاص ہو تو لیا جاسکتا ہے مثلاًاُس ميں بچہ کی نگہداشت کی صلاحیت نہ ہو یا ملتقط فاسق فاجر شخص ہے اندیشہ ہے کہ اس کے ساتھ بدکاری کریگا ایسی صورتوں ميں بچہ کواُس سے جدا کرلیا جائے۔(3) (ہدایہ، فتح القدیر)
مسئلہ ۹: ملتقِط کی رضا مندی سے قاضی نے لقیط کو دوسرے شخص کی تربیت ميں دیدیا پھر اس کے بعد ملتقط واپس لینا چاہتا ہے تو جب تک یہ شخص راضی نہ ہو واپس نہیں لے سکتا۔(4) (خلاصۃ الفتاویٰ)
مسئلہ ۱۰: لقِیط کے جملہ اخراجات کھانا کپڑا رہنے کا مکان بیماری ميں دو ایہ سب بیت المال کے ذمہ ہے اور لقیط مرجائے اور کوئی وارث نہ ہو تو میراث بھی بیت المال ميں جائے گی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۱: ایک شخص ایک بچہ کو قاضی کے پاس پیش کرکے کہتا ہے یہ لقیط ہے ميں نے ایک جگہ پڑا پایا ہے تو ہوسکتا ہے کہ(6) محض اُس کے کہنے سے قاضی تصدیق نہ کرے بلکہ گواہ مانگے اس لیے کہ ممکن ہے خود اُسی کا بچہ ہواور لقیط اس غرض سے بتاتا ہے کہ مصارف(7)بیت المال سے وصول کرے اور یہ ثبوت بہم پہنچ جانے کے بعد کہ لقیط ہے نفقہ وغیرہ بیت المال سے مقرّرکر دیا جائے۔ (8)(عالمگیری)