مسئلہ ۱: جس کو ایسا بچہ ملے اور معلوم ہو کہ نہ اُٹھالائے تو ضائع و ہلاک ہو جائیگا تو اُٹھا لانا فرض ہے اور ہلاک کا غالب گمان نہ ہو تو مستحب۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۲: لقیط آزاد ہے اس پر تمام احکام وہی جاری ہوں گے جو آزاد کے ليے ہیں اگرچہ اُس کا اُٹھا لانے والا غلام ہو ہاں اگر گواہوں سے کوئی شخص اسے اپنا غلام ثابت کردے تو غلام ہوگا۔ (2)(ہدایہ، فتح)
مسئلہ ۳: ایک مسلمان اور ایک کافر دونوں نے پڑا ہوا بچہ پایا اور ہر ایک اُس کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے تو مسلمان کو دیا جائے۔(3) (فتح)
مسئلہ ۴: لقیط کی نسبت کسی نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ میرا لڑکا ہے تو اُسی کا لڑکا قرار دیدیا جائے اور اگر کوئی شخص اوسے اپنا غلام بتائے تو جب تک گواہوں سے ثابت نہ کردے غلام قرار نہ دیا جائے۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۵: ایک کے دعویٰ کرنے کے بعددوسراشخص دعویٰ کرتا ہے تو وہ پہلے ہی کا لڑکا ہوچکا دوسرے کا دعویٰ باطل ہے ہاں اگر دوسرا شخص گواہوں سے اپنا دعویٰ ثابت کردے تو اس کانسب ثابت ہو جائے گا۔ دوشخصوں نے بیک وقت اُس کے متعلق دعویٰ کیا اور ان ميں ایک نے اُس کے جسم کا کوئی نشان بتایا اور دوسرا نہیں تو جس نے نشانی بتائی اُسی کا ہے مگر جبکہ دوسرا گواہوں سے ثابت کردے کہ میرا لڑکا ہے تو یہی مستحق ہوگا اور اگر دونوں کوئی علامت بیان نہ کریں نہ گواہوں سے ثابت کریں یا دونوں گواہ قائم کریں تو لقیط دونوں ميں مشترک قرار دیا جائے اور اگر ایک نے کہا لڑکا ہے دوسرا کہتا ہے لڑکی تو جو صحیح کہتا ہے اُسی کا ہے۔ مجہول ُ النسب(5)بھی اس حکم ميں لقیط کی مثل ہے یعنی دعوی النسب(6)ميں جو حکم لقیط کا ہے وہی اس کا ہے۔(7)(ہدایہ وغیرہا)
مسئلہ ۶: لقیط کی نسبت دوشخصوں نے دعویٰ کیا کہ یہ میرا لڑکا ہے اون ميں ایک مسلمان ہے ایک کافر تو مسلمان کا لڑکا