حدیث ۱: امام مالک نے ابو جمیلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، انھوں نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زمانہ ميں ایک پڑا ہوا بچہ پایا۔ کہتے ہیں ميں اُسے اُٹھا لایا اور حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس لے گیا، اُنھوں نے فرمایا: تم نے اِسے کیوں اُٹھایا؟ جو اب دیا، کہ ميں نہ اُٹھاتا تو ضائع ہوجاتا پھرا ن کی قوم کے سردار نے کہا، اے امیرالمومنین! یہ مرد صالح ہے یعنی یہ غلط نہیں کہتا۔ فرمایا: اِسے لے جاؤ، یہ آزاد ہے، اس کانفقہ ہمارے ذمہ ہے یعنی بیت المال سے دیا جائے گا۔ (1)
حدیث ۲: سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس لقیط لایا جاتا تو اُس کے مناسب حال کچھ مقرر فرما دیتے کہ اُس کا ولی (ملتقط) ماہ بماہ لیجایا کرے اور اُس کے متعلق بھلائی کرنے کی وصیت فرماتے اور اُس کی رضاعت کے مصارف(2)اور دیگر اخراجات بیت المال سے مقرر کرتے۔ (3)
حدیث ۳: تمیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ایک لقیط پایا، اُسے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس لائے، اُنھوں نے اُسے اپنے ذمہ لیا۔ (4)
حدیث ۴: امام محمد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حسن بصری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے لقیط پایا، اُسے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے پاس لایا اُنھوں نے فرمایا: یہ آزاد ہے اور اگر ميں اس کا متولی ہوتا یعنی ميں اُٹھانے والا ہوتا تو مجھے فلاں فلاں چیز سے یہ زیادہ محبوب ہوتا۔(5)
عرف شرع (6)ميں لقیط اُس بچہ کو کہتے ہیں جس کو اُس کے گھر والے نے اپنی تنگدستی یا بدنامی کے خوف سے پھینک دیا ہو۔(7)