Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
97 - 278
    عقیدہ (۲): اِن میں مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی (1)، مگر اِن کے کفّار انسان کی بہ نسبت بہت زیادہ ہیں ، اور اِن میں کے مسلمان نیک بھی ہیں اور فاسق بھی، سُنّی بھی ہیں، بد مذہب بھی (2)، اور اِن میں فاسقوں کی تعداد بہ نسبت انسان کے زائد ہے۔ 

    عقیدہ (۳): اِن کے وجود کا انکار یا بدی کی قوت کا نا م جن یا شیطان رکھنا کفر ہے۔ (3)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ (وَاَنَّا مِنَّا الصَّالِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ کُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا) پ۲۹، الجن: ۱۱.

     وفي ''تفسیر الجلالین''، ص۴۷۶، تحت الآیۃ: ((کُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا) فرقاً مختلفین مسلمین وکافرین).

2۔۔۔۔۔۔ وفي ''الجامع لأحکام القرآن''، تحت الآیۃ: ((کُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا) والمعنی: أي: لم یکن کلّ الجن کفاراً بل کانوا مختلفین: منھم کفار، ومنھم مؤمنون صلحائ، ومنھم مؤمنون غیرصلحائ. وقال السدي فيقولہ تعالی: (طَرَائِقَ قِدَدًا) قال: في الجن مثلکم قدریۃ ومرجئۃ وخوارج ، وروافضۃ، وشیعۃ وسنیۃ)، ملتقطاً.

( ''الجامع لأحکام القرآن''، ج۱۰، ص۱۲).

    وفي ''تفسیر روح البیان'': ( قالوا في الجن قدریۃ ومرجئۃ وخوارج وروافض وشیعیۃ وسنیۃ)۔

(''تفسیر روح البیان''، ج۱۰، ص۱۹۴)۔

3۔۔۔۔۔۔ في ''الفتاوی الحدیثیۃ''، ص۱۶۷: (وأمّا الجان فأھل السنۃ یؤمنون بوجودہم، وإنکار المعتزلۃ لوجودہم، فیہ مخالفۃ للکتاب والسنۃ والإجماع، بل ألزموا بہ کفراً؛ لأنّ فیہ تکذیب النصوص القطعیۃ بوجودہم، ومن ثم قال بعض المالکیۃ: الصواب کفر من أنکر وجودہم؛ لأنّہ جحد نص القرآن والسنن المتواترۃ والإجماع الضروري وہم مکلفون قطعاً).
Flag Counter