Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
95 - 278
    عقیدہ (۶): کسی فرشتہ کے ساتھ ادنیٰ گستاخی کفر ہے(1)، جاھل لوگ اپنے کسی دشمن یا مبغوض(2) کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ملک الموت یا عزرائیل آگیا، یہ قریب بکلمہ کُفر ہے۔(3) 

    عقیدہ (۷): فرشتوں کے وجود کا انکار(4)، یا یہ کہنا کہ فرشتہ نیکی کی قوت کو کہتے ہیں اور اس کے سوا کچھ نہیں، یہ دونوں باتیں کُفر ہیں۔
       ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ                                                                                                                                                                                                                                                 11۔۔۔۔۔۔ (من شتم ملکاً أو أبغضہ فإنّہ یصیر کافراً کما في الأنبیائ، ومن ذکر الأنبیاء أو ملکاً بالحقارۃ فإنّہ یصیر کافراً).

     ''تمہید'' لأبي شکور سالمي،ص ۱۲۲. 

     وفي ''الفتاوی الہندیۃ''، الباب التاسع في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۶: (رجل عاب ملکاً من الملائکۃ کفر).

2۔۔۔۔۔۔ قابل نفرت۔ 

3۔۔۔۔۔۔ (ویکفر بقولہ لغیرہ: رؤیتي إیاک کرؤیۃ ملک الموت عند البعض خلافا للأکثر، وقیل بہ إن قالہ لعداوتہ، لا لکراہۃ الموت). ''البحر الرائق''، کتاب السیر، باب أحکام المرتدین، ج۵، ص۲۰۵، ملتقطاً.

    وفي مجمع الأنہر''، کتاب السیر والجہاد، ج۲، ص۵۰۷: (قال: لقاؤک عليّ کلقاء ملک الموت إن قالہ لکراہۃ الموت لا یکفر، وإن قالہ إہانۃ لملک الموت یکفر، ویکفر بتعییبہ ملکاً من الملائکۃ أو بالاستخفاف بہ).

    وفي ''الفتاوی الہندیۃ''، الباب التاسع في أحکام المرتدین، ج۲، ص۲۶۶: (إذا قال لغیرہ: رؤیتي إیاک کرؤیۃ ملک الموت، فھذا خطأ عظیم، وھل یکفر ھذا القائل؟ فیہ اختلاف المشایخ، بعضھم قالوا: یکفر وأکثرہم علی أنّہ لا یکفر،کذا في ''المحیط''، وفي ''الخانیۃ'': وقال بعضھم: إن قال ذلک لعداوۃ ملک الموت یصیر کافراً، وإن قال لکراہۃ الموت لا یصیرکافرا، ولو قال: روی فلان دشمن میدارم چون روی ملک الموت، (أي: أکرہ رؤیۃ فلان مثل رؤیۃ ملک الموت) أکثر المشایخ علی أنّہ یکفر).

4۔۔۔۔۔۔ في ''شرح الشفا'' للقاریئ، في حکم من سب اللہ تعالی وملائکتہ إلی آخرہ، ج۲، ص۵۲۲: (''وکذلک من أنکر شیأاً مما نصّ فیہ القرآن'' بہ کوجود الملائکۃ ومجيء القیامۃ)۔
Flag Counter