| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
ہزارہا حِکَم و مَصالح پر مبنی، ہزارہا فوائد و برکات کی مُثمِر (1) ہوتی ہیں، ایک لغزشِ اَبِیْنَا آدم علیہ الصلاۃ والسلام(2) کو دیکھیے، اگر وہ نہ ہوتی، جنت سے نہ اترتے، دنیا آباد نہ ہوتی، نہ کتابیں اُترتیں، نہ رسول آتے، نہ جہاد ہوتے، لاکھوں کروڑوں مثُوبات (3) کے دروازے بند رہتے، اُن سب کا فتحِ باب ایک لغزشِ آدم کا نتیجہ بارکہ و ثمرہ طیّبہ ہے۔ بالجملہ انبیا علیہم الصلاۃ والسلام کی لغزش، مَن و تُو کس شمار میں ہیں، صدیقین کی حَسَنَات سے افضل و اعلیٰ ہے۔
''حَسَنَاتُ الأبْرَارِ سَیّاٰتُ الْمُقَرَّبِیْنَ.'' (4)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
گُدّی کے پیچھے سے کھینچی جائے للہ المثل الأعلی، بلا تشبیہ یوں خیال کرو کہ زید نے اپنے بیٹے عمرو کو اس کی کسی لغزش یا بھول پر متنبہ کرنے ادب دینے حزم وعزم واحتیاط اتم سکھانے کے لئے مثلاً بیہودہ نالائق احمق وغیرہا الفاظ سے تعبیر کیا باپ کو اس کا اختیار تھا اب کیا عمرو کا بیٹا بکر یا غلام ِخالد انہیں الفاظ کو سند بنا کر اپنے باپ اور آقا عمرو کو یہ الفاظ کہہ سکتا ہے، حاشا اگر کہے گا سخت گستاخ ومردود و ناسزا ومستحق ِعذاب وتعزیر وسزا ہوگا، جب یہاں یہ حالت ہے تو اللہ عزوجل کی ریس کرکے انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کی شان میں ایسے لفظ کا بکنے والا کیونکر سخت شدید ومدید عذابِ جہنم وغضب الٰہی کا مستحق نہ ہوگا والعیاذ باللہ تعالیٰ۔
امام ابو عبداللہ قرطبی تفسیر میں زیر قولہ تعالیٰ: (وَطَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْہِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّۃِ) کی تفسیر میں فرماتے ہیں: قـال القاضي أبو بکر بن العربي رحمہ اللہ تعالی: (لا یجوز لأحد منّا الیوم أن یخبر بذلک عن آدم علیہ الصّلاۃ والسّلام إلاّ إذا ذکرناہ في أثناء قولہ تعالی عنہ أو قول نبیہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، فأمّا أن نبتدیئ ذلک من قبل أنفسنا فلیس بجاءز لنا في آبائنا الأدَنین إلینا المماثلین لنا فکیف بأبینا الأقدم الأعظم الأکبر النبي المقدم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وعلی جمیع الأنبیاء والمرسلین).
''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، پ۱۶، الآیۃ: ۱۲۱، ج۶، ص۱۳۷۔
امام ابو عبداللہ محمد بن عبدری ابن الحاج ''مدخل '' ، ج ۱، الجزء ا لاول، ص ۲۳۷، میں فرماتے ہیں: (قد قال علماؤنا رحمہم اللہ تعالی: أنّ من قال عن نبي من الأنبیاء علیھم الصّلاۃ والسلام في غیر التلاوۃ والحدیث: أنّہ عصی أو خالف فقد کفر، نعوذ باللہ من ذلک).
ایسے امور میں سخت احتیاط فرض ہے اللہ تعالی اپنے محبوبوں کا حسن ِادب عطا فرمائے ۔ آمین.
''الفتاوی الرضویۃ'' ج۱، ص ۸۲۳۔۸۲۴.
1۔۔۔۔۔۔ ہزاروں حکمتوں اور مصلحتوں پرمشتمل،ہزاروں فائدوں اور برکتوں کو لانے والی۔
2۔۔۔۔۔۔ ھمارے باپ آدم علیہ السلام کی ایک لغزش۔
3۔۔۔۔۔۔ نیکیوں کے اجر۔
4۔۔۔۔۔۔ ''کشف الخفاء'' للعجلوني، ج۱، ص۳۱۸. و''النبراس''، الملائکۃ علیہم السلام، ص۲۸۶.
یعنی: نیک لوگوں کی نیکیاں مقربین کے لیے خطاؤں کا درجہ رکھتی ہیں۔