Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
88 - 278
    مگر کورِ باطن کا کیا علاج ؎

                 گر نہ بیند بروز شپرہ چشم

                 چشمہ آفتاب را چہ گناہ(1) 

    مسئلہ ضروریہ: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام سے جو لغزشیں واقع ہوئیں، انکا ذکر تلاوتِ قرآن و روایتِ حدیث کے سوا حرام اور سخت حرام ہے، اوروں کو اُن سرکاروں میں لب کشائی کی کیا مجال...! مولیٰ عزوجل اُن کا مالک ہے، جس محل پر جس طرح چاہے تعبیر فرمائے، وہ اُس کے پیارے بندے ہیں، اپنے رب کے لیے جس قدرچاہیں تواضع فرمائیں، دوسرا اُن کلمات کو سند نہیں بناسکتا (2) اور خود اُن کا اطلاق کرے تو مردودِ بارگاہ ہو، پھر اُنکے یہ افعال جن کو زَلَّت و لغزش سے تعبیر کیا جائے
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔یعنی: اگر چمگادڑ کو دن میں روشنی نظر نہ آئے تو اس میں سورج کا کیا قصور۔ 

2۔۔۔۔۔۔ في ''أشعۃ اللمعات'': (درقرآن مجید بآدم نسبت عصیان کردہ وعتاب نمودہ مبنی برعلوشان قرب اوست ومالک رامیرسدکہ برترک اولی وافضل اگرچہ بحد معصیت نرسد بہ بندئہ خود ہرچہ خواہد بگوید وعتاب نماید دیگری رامجال نہ کہ تواندگفت واینجا ادبی ست کہ لازم ست رعایت آن وآن انیست کہ اگر از جانب حضرت بہ بعض انبیا کہ مقربان درگاہ اند عتابی وخطابی رودیا از جانب ایشان کہ بندگان خاص اویند تواضعی وذلتی وانکساری صادر گرددکہ موہم نقص بود مارانبایدکہ دران دخل کینم وبدان تکلم نمائیم).

''أشعۃ اللمعات''، کتاب الإیمان، الفصل الأول، ج۱، ص۴۳.

    ترجمہ: قرآن مجید میں جو حضرت آدم علیہ السلام کی طرف عصیاں ونافرمانی کی نسبت کی اور ان پر عتاب فرمایا وہ حضرت آدم علیہ السلام کے خدائے تعالی کے مقرب ہونے اور ان کی بلندی شان پر مبنی ہے اور مالک کو حق پہنچتا ہے کہ اولیٰ وافضل چیز کے ترک کرنے پر اگرچہ وہ معصیت کی حد تک نہ پہنچے اپنے بندے کو جو کچھ چاہے کہے اور عتاب کرے دوسرے کسی کو کچھ بھی کہنے کی مجال نہیں ہے یہ نہایت ادب کا مقام ہے جس کا لحاظ ضروری ہے اور وہ ادب یہ ہے کہ اگر خداوندتعالیٰ کی جانب سے بعض انبیاء علیہم السلام پر جو اس کی درگاہ کے مقرب ہیں عتاب نازل ہو یا ان کی طرف خطا کی نسبت کی گئی ہو یا خود ان انبیاء (علیہم السلام )کی طرف سے جو کہ اس کے خاص بندے ہیں تواضع ،عاجزی وانکساری کی بات صادر ہو جس سے ان میں نقص وعیب کا وہم پڑتا ہو ، تو ہم بندوں کو اس میں دخل دینے یا اسے زبان پر لانے کی ہرگز اجازت نہیں۔

     اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویہ '' شریف میں فرماتے ہیں کہ: ''غیر تلاوت میں اپنی طرف سے سید نا آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف نافرمانی وگناہ کی نسبت حرام ہے۔ ائمہ دین نے اس کی تصریح فرمائی بلکہ ایک جماعت علمائے کرام نے اسے کفر بتایا، مولیٰ کو شایان ہے کہ اپنے محبوب بندوں کو جس عبارت سے تعبیر فرمائے ،فرمائے دوسرا کہے تو اس کی زبان
Flag Counter