Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
85 - 278
اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں۔(1) 

    عقیدہ (۵۱): سب سے پہلے مرتبہ نبوّت حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو ملا۔(2) روزِ میثاق تمام انبیا سے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) پر ایمان لانے اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نصرت کرنے کا عہد لیا گیا(3) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 

    یعنی: صحیح اور مختار مذہب یہی ہے کہ احکام حضور کے سپرد ہیں جس پہ جو چاہیں حکم کریں۔ ایک کام ایک پہ حرام کرتے ہیں اور دوسرے پر مباح۔ اس کی بہت مثالیں ہیں جیسا کہ متبع پہ مخفی نہیں۔ حق تعالی نے شریعت مقرر کر کے ساری کی ساری اپنے رسول اور اپنے محبوب کے حوالہ کر دی (کہ اس میں جس طرح چاہیں ترمیم و اضافہ فرمائیں)۔

1۔۔۔۔۔۔ عن رجل منھم أنّہ أتی النبي صلی اللہ علیہ وسلم فأسلم علی أنّہ لایصلي إلاّصلاتین، فقبل ذلک منہ). 

     ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۲۰۳۰۹، ج۷، ص۲۸۳۔۲۸۴. 

     وانظر رسالۃ إمام أھل السنۃ علیہ الرحمۃ ''منیۃ اللبیب أنّ التشریع بید الحبیب''، ج۳۰، ص۵۰۰۔

     والرسالۃ: ''الأمن والعلی لناعتي المصطفی بدافع البلاء''، ج۳۰، ص۳۵۹۔

2۔۔۔۔۔۔ عن أبي ھریرۃ قال: قالوا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم متی وجبت لک النبوۃ؟ قال: ((وآدم بین الروح والجسد)). ''جامع الترمذي''، کتاب المناقب، باب ما جاء في فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم، الحدیث: ۳۶۲۹، ج۵، ص۳۵۱.

    اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ '' شریف میں فرماتے ہیں کہ:'' اسی لئے اکابر علماء تصریح فرماتے ہیں کہ جس کا خدا خالق ہے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔ شیخ محقق رحمۃ اللہ تعالی علیہ ''مدارج النبوۃ'' میں فرماتے ہیں: ''چوں بود خلقِ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اعظم الاخلاق بعث کرد خدائے تعالی اُو را بسُوئے کافہ ناس ومقصور نہ گردانید رسالتِ اُو را بر ناس بلکہ عام گردانید جِن واِنس را، بلکہ بر جِن وانس نیز مقصور نہ گردانید تا آنکہ عام شد تمامہ عالمین را، پس ہر کہ اللہ تعالی پروردگار ِِ اوست محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم رسولِ اُوست.

    ترجمہ: یعنی چونکہ آنحضرت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پیدائش تمام مخلوق سے اعظم ہے لھذا اللہ تعالی نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف مبعوث فرمایا، آپ کی رسالت کو انسانوں میں منحصر نہیں فرمایا بلکہ جن وانس کے لئے عام کردیا بلکہ جن وانس میں بھی انحصار نہیں فرمایا یہاں تک کہ آپ کی رسالت تمام جہانوں کے لئے عام ہے ، چنانچہ اللہ تعالی جس کا پروردگار ہے محمد صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اس کے رسول ہیں۔ 

''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۱۵۰. 

3۔۔۔۔۔۔ (وَاِذْ اَخَذَ اللہُ مِیثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّحِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآءَ کُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَلَتَنْصُرُنَّہ، قَالَ ءَ اَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْآ اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْہَدُوْا وَاَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰہِدِیْنَ) پ۳، اٰلِ عمرٰن:۸۱.
Flag Counter