ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
کرتے ہیں:''یارسول اللہ! دنیا وآخرت دونوں حضور کے خوانِ جود و کرم سے ایک حصہ ہیں اور لوح وقلم کے تمام علوم جن میں ماکان ومایکون جو کچھ ہوا اور جو کچھ قیامِ قیامت تک ہونے والا ہے ذرہ ذرہ بالتفصیل مندرج ہے حضور کے علوم سے ایک پارہ ہیں''۔
''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۴۹۵.
1۔۔۔۔۔۔ احکام کے حلال وحرام کرنے کے اختیارات۔
2۔۔۔۔۔۔ (وَیُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْہِمُ الْخَبَائِثَ)پ۹، الأعراف: ۱۵۷.
عن ابن عباس رضي اللہ عنھما قال: قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم یوم افتتح مکۃ : ((لا ہجرۃ ولکن جہاد ونیۃ وإذا استنفرتم فانفروا، فإنّ ھذا بلد حرمہ اللہ یوم خلق السموات والأرض، وہو حرام بحرمۃ اللہ إلی یوم القیامۃ، وإنّہ لم یحلّ القتال فیہ لأحد قبلي ولم یحلّ لي إلاّ ساعۃ من نہار، فہو حرام بحرمۃ اللہ إلی یوم القیامۃ لا یعضد شوکہ ولا ینفر صیدہ ولا یلتقط لقطتہ إلاّ من عرّفہا ولا یختلی خلاہا))، قال العباس: یا رسول اللہ إلاّ الإذخر فإنّہ لقینھم ولبیوتہم، قال: ((إلاّ الإذخر)).
''صحیح البخاري''، کتاب جزاء الصید، باب لا یحل القتال بمکۃ،الحدیث: ۱۸۳۴، ج۱، ص۶۰۶.
في ''أشعۃ اللمعات''، کتاب المناسک، باب حرم مکۃ، ج۲، ص۴۰۸، تحت لفظ: ((إلاّ الإذخر)): (مگر اذخر کہ رد است قطع کردن، ودر مذہب بعضے آنست کہ احکام مفوض بود بوے صلی اللہ علیہ وسلم ہر چہ خواہد وبر ہر کہ خواہد حلال وحرام گرداند وبعضے گویند باجتہاد گفت، واول اصح واظہر ست واللہ اعلم).
یعنی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ''إلاّ الإذخر'' فرماتے ہوئے اس گھاس کے کاٹنے کی اجازت دے دی بعض علماء کا مذہب یہ ہے کہ شرع کے احکام حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے کردئے گئے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چا ہتے ہیں جس کے لئے چاہتے ہیں کوئی چیز حلال فرمادیتے ہیں اور حرام کر دیتے ہیں۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے اس گھاس کے کاٹنے کی اجازت اپنے اجتہاد سے دی مگر پھلا مذہب صحیح تر اور ظاہر تر ہے۔
وفي ''مدارج النبوۃ''، ج۲، ص۱۸۳: (ومذہب صحیح ومختار آنست کہ احکام مفوض ست بحضرت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم بہر کہ و بہر چہ خواہد حکم کندیک فعل بریکی حرام کند وبردیگری مباح گرداند واین را امثلہ بسیار ست کما لا یخفی علی المتبع حق جل و علٰی پیدا کردہ وشریعتی نہادہ و ہمہ برسول صلی اللہ علیہ وسلم خود و حبیب خود سپردہ است صلی اللہ علیہ وسلم).