ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ''فتاوی رضویہ '' شریف میں اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:''یہ حدیث ِجلیل اتنے آئمہ کبار نے باسانید ِ متعددہ روایت کی اور طریقِ اخیر میں یہ لفظ ہیں کہ:اعشی رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی پناہ لی اور عرض کی کہ: اے مالک ِ آدمیاں، و اے جزا و سزا دہ عرب صلی اللہ تعالی علیک وبارک وسلم۔
''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۴۴۷.
1۔۔۔۔۔۔ سنّت کی لذت و مٹھاس۔
2۔۔۔۔۔۔ في ''الشفا''، الباب الثاني في لزوم محبتہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم، ج۲، ص۱۹: ( قال سھل: من لم یر ولایۃ الرسول علیہ في جمیع الأحوال ویری نفسہ في ملکہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم لا یذوق حلاوۃ سنتہ؛ لأنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من نفسہ)) الحدیث). ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۴۲۵.
3۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((واعلموا أنّ الأرض للہ ورسولہ)). ''صحیح البخاري''، کتاب الجزیۃ والموادعۃ، باب إخراج الیہود من جزیرۃ العرب، الحدیث: ۳۱۶۷، ج۲، ص۲۵۶.
عن ابن عباس قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((موتان الأرض للہ ولرسولہ)). ''السنن الکبری''، للبیہقي، کتاب إحیاء الموات، باب من أحیا أرضاً میتۃ لیست لأحد، الحدیث: ۱۱۷۸۶، ج۶، ص۲۳۷.
عن ابن عباس قال: ((إنّ عادي الأرض للہ ولرسولہ)). ''السنن الکبری''، للبیہقي، کتاب إحیاء الموات، باب من أحیا أرضاً میتۃ لیست لأحد، الحدیث: ۱۱۷۸۵، ج۶، ص۲۳۷۔
اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ '' شریف میں ان احادیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:''میں کہتا ہوں بَن(جہاں کثرت سے درخت ہوں) جنگل ، پہاڑوں اور شہروں کی ملک افتادہ زمینوں کی تخصیص اس لئے فرمائی کہ اُن پر ظاہری مِلک بھی کسی کی نہیں یہ ہر طرح خالص مِلک ِخدا ورسول ہیں جل جلالہ وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم، ورنہ محلوں ، احاطوں، گھروں، مکانوں کی زمینیں بھی سب اللہ ورسول کی مِلک ہیں اگرچہ ظاہری نام مَن وتُو کا لگا ہوا ہے۔'' زبور شریف'' سے رب العزت کا کلام سن ہی چکے :''کہ احمد مالک ہوا ساری زمین اور تمام امتوں کی گردنوں کا''، صلی اللہ تعالی علیہ وسلم۔ تو یہ تخصیصِ مکانی ایسی ہے جیسے آیہ کریمہ (وَالْأَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہِ ) میں تخصیص زمانی کہ حکم اس دن اللہ کے لئے ہے ، حالانکہ ہمیشہ اللہ ہی کا ہے، مگر وہ دن روز ظہورِ حقیقت وانقطاع ِ ادّعا ہے لا جرم صحیح بخاری شریف کی حدیث نے ساری زمین بلا تخصیص اللہ ورسول کی ملک بتائی وہ کہاں؟ وہ اس حدیث آئندہ میں، فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: ((اعلموا أنّ الأرض للہ ولرسولہ)).یعنی یقین جان لو کہ زمین کے مالک اللہ ورسول ہیں ۔ ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۴۴۵.
4۔۔۔۔۔۔ حدثني ربیعۃ بن کعب الأسلمي قال:کنت أبیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، فآتیہ بوضوئہ وحاجتہ، فقال لي: ((سل)) فقلت: أسألک مرافقتک في الجنۃ، قال: ((أو غیر ذلک؟)) قلت: ہو ذاک، قال: ((فأعني علی نفسک بکثرۃ السجود)). ''صحیح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب فضل السجود والحث علیہ، الحدیث: ۴۸۹، ص۲۵۳.