Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
80 - 278
تحتِ تصرّف (1)کر دیا گیا (2)، جو چاہیں کریں، جسے جو چاہیں دیں، جس سے جو چاہیں واپس لیں(3)، تمام جہان میں اُن کے حکم کا پھیرنے والا کوئی نہیں(4)، تمام جہان اُن کا محکوم ہے اور وہ اپنے رب کے سوا کسی کے محکوم نہیں(5)، تمام آدمیوں کے مالک ہیں (6)،
1۔۔۔۔۔۔ اختیار میں، زیرِ حکم۔ 

2..... . في ''أشعۃ اللمعات''، ج۱، ص۴۳۲: تصرف و قدرت سلطنت وے صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ براں بود وملک وملکوت جن و انس وتمامئہ عوالم بتقدیر وتصرف الہی عزو علا در حیطئہ قدرت و تصرف وے بود۔ 

    یعنی: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا تصرف اور آپ کی قدرت اور سلطنت سلیمان علیہ السلام کی سلطنت اور قدرت سے زیادہ تھی۔ ملک و ملکوت جن اور انسان اور سارے جہان اللہ تعالی کے تابع کر دینے سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے تصرف اور قدرت کے احاطے میں تھے (اور ہیں) ۔ 

    في ''جواہر البحار''، ج۳، ص۶۰: (إن اللہ تعالی اتخذ خلیفتہ في الأکوان منہ (أي: من جنس الإنسان وہو الفرد الجامع المحیط بالعالم کلہ، والعالم کلہ في قبضتہ وتحت حکمہ وتصرفہ یفعل فیہ کل ما یرید بلا منازع ولا مدافع وقصاری أمرہ أنہ کان حیثما کان الرب إلہاً کان ھو خلیفتہ فلا خروج لشيء من الأکوان عن ألوہیۃ اللہ تعالی کذلک لا خروج لشيء من الأکوان عن سلطنۃ ھذا الفرد الجامع یتصرف فی المملکۃ بإذن مستخلفہ)۔

3۔۔۔۔۔۔ في ''الجوہر المنظم''، ص۴۲: (أنّہ صلی اللہ علیہ وسلم خلیفۃ اللہ الذي جعل خزائن کرمہ وموائد نعمہ طوع یدیہ وتحت إرادتہ یعطي منھما من یشاء ویمنع من یشائ)، ملخصاً.

4۔۔۔۔۔۔ في ''المواہب''، ج۱، ص۲۸۔۲۹: 

(ألا! بأبي من کان ملکاً وسیداً         وآدم بین الماء والطین واقف

             إذا رام أمراً لا یکون خلافہ     ولیس لذلک الأمر في الکون صارف).

5۔۔۔۔۔۔ في ''نسیم الریاض''، القسم الأول في تعظیم العلي الأعلی لقدر النبي، ج۲، ص۲۸۱: (فمعنی نبینا الآمر إلی آخرہ: أنّہ لا حاکم سواہ، فھو حاکم غیر محکوم، فإذا قال في أمر: لا، أو نعم، وھو لا یقول إلاّ صواباً موافقاً لرضی اللہ، فحینئذ لا یخالفہ إلاّ بقسر قاسر، ولیس غیرہ حاکم یمنعہ عما حکم بہ ویرد أحکامہ، فھو أصدق القائلین فیما یقولہ). 

و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۵۶۵.

6۔۔۔۔۔۔ حدثني الأعشی المازني قال: ((أتیت النبي صلی اللہ علیہ وسلم، فأنشدتہ: یا مالک الناس ودیان العرب...إلخ)). ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۶۹۰۲، ج۲، ص۶۴۴).

    ترجمہ: اعشی مازنی رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور میں نے شعر پڑھا: اے تمام آدمیوں کے مالک اور اے عرب کے جزا وسزا دینے والے۔
Flag Counter