ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
وفي ''المرقاۃ''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۸۹۶، ج۲،ص۶۱۵، تحت لفظ ''سل'': (أي: اطلب مني حاجۃ، وقال ابن حجر: أتحفک بہا في مقابلۃ خدمتک لي، لأنّ ھذا ہو شأن الکرام، ولا أکرم منہ ، ویؤخذ من إطلاقہ علیہ السلام الأمر بالسؤال أنّ اللہ تعالی مکنہ من إعطاء کل ما أراد من خزائن الحق، ومن ثم عدّ أئمتنا من خصائصہ علیہ السلام أنّہ یخص من شاء بما شائ..... وذکر ابن سبع في خصائصہ وغیرہ: أنّ اللہ تعالیٰ أقطعہ أرض الجنۃ یعطي منھا ما شاء لمن یشائ)، ملتقطا.
وانظر ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۲۱، ص۳۱۰.
وفي ''أخبار الأخیار''، ص۲۱۶: ((تِلْکَ الْجَنَّۃُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبٰدِنَا مَنْ کَانَ تَقِیًّا) [پ۱۶، مریم: ۶۳] أي: نورث تلک الجنۃ محمدا صلی اللہ علیہ وسلم فیعطي من یشاء ویمنع عمن یشائ، وہو السلطان في الدنیا والآخرۃ، فلہ الدنیا ولہ الجنۃ ولہ المشاہدات صلی اللہ علیہ وسلم)۔
اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ '' شریف میں فرماتے ہیں کہ: ''رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اپنے رب کی عطا سے مالک جنت ہیں، معطیِ جنت ہیں، جسے چاہے عطافرمائیں، امام حجۃ الاسلام غزالی پھر امام احمد قسطلانی ''مواہب لدنیہ '' پھر علامہ محمد زرقانی اس کی شرح میں فرماتے ہیں: (إن اللہ تعالی ملکہ الأرض کلھا وأنّہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کان یقطع أرض الجنۃ ما شاء منھا لمن شاء فأرض الدنیا أولی)۔اللہ تعالی نے دینا اور آخرت کی تمام زمینوں کا حضور کو مالک کردیاہے، حضور جنت کی زمین میں سے جتنی چاہیں جسے چاہیں جاگیر بخشیں تو دنیا کی زمین کاکیا ذکر!'' ۔
''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱۴، ص۶۶۷.
1۔۔۔۔۔۔ اعلی حضرت عظیم البرکت عظیم المرتبت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ '' شریف میں بحوالہ ''معجم اوسط'' للطبرانی بسندِ حسن سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنھما سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: (إن النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم أمر الشمس فتأخّرت ساعۃ من نھار)۔ سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے آفتاب کو حکم دیا کہ کچھ دیر چلنے سے باز رہ، وہ فوراً ٹھہر گیا۔
اقول: اس حدیثِ حسن کا واقعہ اس حدیث صحیح کے واقعہ عظیمہ سے جدا ہے جس میں ڈوبا ہوا سورج حضور (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم )کے لیے پلٹاہے یہاں تک کہ مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے نمازِ عصر کی خدمت گزاری ئ محبوب ِباری صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں قضا ہوئی تھی ادا فرمائی۔ امام اجل طحاوی وغیرہ اکابر نے اس حدیث کی تصحیح کی ۔ الحمدللہ اسے خلافت رب العزت کہتے ہیں کہ ملکوت السمٰوٰت والارض میں ان کا حکم جاری ہے تمام مخلوق الہٰی کو ان کیلئے حکم اطاعت وفرمانبرداری ہے ۔ وہ خدا کے ہیں اوجو کچھ خدا کا ہے سب ان کا ہے ، وہ محبوب اجل واکرم وخلیفۃ اللہ الاعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم جب دودھ پیتے تھے گہوارہ میں چاند ان کی غلامی بجالاتا ، جدھر اشارہ فرماتے اسی طرف جھک جاتا۔ حدیث میں ہے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنھما عم مکرم سید اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضور سے عرض کی: مجھے اسلام پر باعث حضور کے ایک معجزے کا دیکھنا ہوا، ''رأیتک في المھد تناغي القمر وتشیر إلیہ بأصبعک فحیث أشرت إلیہ مال''۔
میں نے حضو ر کو دیکھا کہ حضور گہوارے میں چاند سے باتیں فرماتے جس طرح انگشت مبارک سے اشارہ کرتے چاند اسی طرف جھک جاتا۔