Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
79 - 278
آواز کبھی بلند نہ کرنا ، کہ عمر بھر کا سارا کِیا دھرا اَکارت جائے (1) اور محبت کی یہ نشانی بھی ہے کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے اقوال و افعال و احوال لوگوں سے دریافت کرے اور اُن کی پیروی کرے۔ (2) 

    عقیدہ (۴۹): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے کسی قول و فعل و عمل و حالت کو جو بہ نظرِ حقارت دیکھے کافر ہے۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ (یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہٗ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ) پ۲۶، الحجرات: ۲. 

2۔۔۔۔۔۔ في ''الشفا''، فصل في علامۃ محبتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ج۲، ص۲۴: (اعلم أنّ من أحب شیأاً آثرہ وآثر موافقتہ وإلاّ لم یکن صادقا في حبہ وکان مدعیا فالصادق في حب النبي صلی اللہ علیہ وسلم من تظہر علامۃ ذلک علیہ، وأوّلہا: الاقتداء بہ واستعمال سنتہ واتباع أقوالہ وأفعالہ وامتثال أوامرہ واجتناب نواہیہ والتأدب بآدابہ في عسرہ ویسرہ ومنشطہ ومکرہہ وشاہد ھذا قولہ تعالی: (قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ)). 

3۔۔۔۔۔۔ في ''الفتاوی قاضي خان''، کتاب السیر، ج۴، ص ۴۶۸: (إذا عاب الرجل النبي علیہ السلام في شيء کان کافراً).

    في''حاشیۃ الصاوي''، ج۴، ص۱۴۲۱. 

4۔۔۔۔۔۔ في ''أشعۃ اللمعات''، ج۴، ص۳۱۵: (وے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خلیفہ مطلق ونائب کل جناب اقدس است مے کند و مے دہد ہر چہ خواہد باذنِ وے۔ 

    یعنی: حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالی کے خلیفہ مطلق اور نائب کل ہیں جو چاہیں کرتے ہیں اور جو چاہیں عطا فرماتے ہیں ۔

؎ فإنّ من جودک الدنیا وضرتہا     ومن علومک علم اللوح والقلم).

یعنی: یا رسول اللہ ! دنیا اور آخرت کی ہر نعمت آپ کے جود لا محدود سے کچھ حصہ ہے اور آپ کے علوم کثیرہ سے لوح و قلم کا علم بعض حصہ ہے ۔

    في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۲۸۷: ''حضورتمام ملک وملکوت پر اللہ عزوجل کے نائب مطلق ہیں جن کو رب عزوجل نے اپنے اسماء وصفات کے اسرار کا خلعت پہنایا اور ہر مفرد ومرکب ہیں تصرف کا اختیار دیاہے، دولھا بادشاہ کی شان دکھاتا ہے، اس کا حکم برات میں نافذ ہوتاہے، سب اس کی خدمت کرتے ہیں اور اپنے کام چھوڑ کر اس کے کام میں لگے ہوتے جس بات کو اس کا جی چاہے موجود کی جاتی ہے، چین میں ہوتاہے، سب براتی اس کی خدمت میں اور اس کے طفیل میں کھانا پاتے ہیں، یوہیں مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم عالم میں بادشاہ حقیقی عزوجل کی شان دکھاتے ہیں، تمام جہاں میں ان کا حکم نافذ ہے، سب ان کی خدمت گار وزیر ِفرمان ہیں، جو وہ چاہتے ہیں اللہ عزوجل موجود کردیتاہے ((ما أری ربک إلّا یسارع فی ھواک))، ''صحیح بخاری ''کی حدیث ہے کہ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا حضور اقدس صلی اللہ تعالای علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں: ''میں حضور کے رب کو دیکھتی ہوں کہ حضور کی خواہش میں شتابی فرماتاہے''۔ تمام جہاں حضور کے صدقہ میں حضور کا دیا کھاتاہے کہ ((إنما أنا قاسم واللہ المعطي)) ، ''صحیح بخاری ''کی حدیث ہے کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''ہر نعمت کا دینے والا اللہ ہے اور بانٹنے والا میں ہوں''۔ یوں تشبیہ کامل ہوئی اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سلطنتِ الٰہی کے دولھا ٹھہرے، والحمداللہ رب العالمین''۔
Flag Counter