Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
78 - 278
کہ شانِ اقدس میں جو الفاظ استعمال کیے جائیں ادب میں ڈوبے ہوئے ہوں، کوئی ایسا لفظ جس میں کم تعظیمی کی بُو بھی ہو، کبھی زبان پر نہ لائے، اگر حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو پکارے تو نامِ پاک کے ساتھ ندا نہ کرے، کہ یہ جاءز نہیں، بلکہ یوں کہے:
'' یَا نَبِيَّ اللہِ! یَا رَسُوْلَ اللہ! یَا حَبِیبَ اللہِ! ''(1)
    اگر مدینہ طیبہ کی حاضری نصیب ہو تو روضہ شریف کے سامنے چارہاتھ کے فاصلہ سے دست بستہ جیسے نماز میں کھڑا ہوتا ہے، کھڑا ہو کر سر جھکا ئے ہوئے صلاۃ و سلام عرض کرے، بہُت قریب نہ جائے، نہ اِدھر اُدھر دیکھے (2) اور خبردار...! خبردار...!
1۔۔۔۔۔۔ (لَا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَاءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا) پ۱۸، النور: ۶۳.

    وفي ''حاشیۃ الصاوي''، ج۴، ص۱۴۲۱: (لا تَجْعَلُوْا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ) أي: نداء ہ بمعنی لا تنادوہ باسمہ فتقولوا: یا محمد، ولا بکنیتہ فتقولوا: یا أبا القاسم، بل نادوہ وخاطبوہ بالتعظیم والتکریم والتوقیر بأن تقولوا: یا رسول اللہ، یانبي اللہ، یا إمام المرسلین، یا رسول رب العالمین، یاخاتم النبیین، وغیر ذلک).

    وفي''المعتقد المنتقد''، وکذا یجب توقیرہ... إلخ، ص۱۳۹۔۱۴۰:(وکذایجب توقیرہ وتعظیمہ في الظاھر والباطن وجمیع الأحوال، قال اللہ تعالی: (لا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَکُمْ کَدُعَاءِ بَعْضِکُمْ بَعْضًا) أي: برفع الصوت فوق صوتہ أو ندائہ بأسمائہ فلا تقولوا: یا محمد یا أحمد بل قولوا: یا نبي اللہ ویا رسول اللہ،کما خاطبہ بہ سبحانہ، ذکرہ مجاھد وقتادۃ، ولا منع من الجمع، وروي عن ابن عباس رضي اللہ تعالی عنھما: احذروا دعاء الرسول علیکم إذا أسخطتموہ فإنّ دعاء ہ موجب لیس کدعاء غیرہ). ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۱۵۶.

2۔۔۔۔۔۔ في''الہندیۃ''، کتاب المناسک، الباب السابع عشر في النذر بالحج، مطلب زیارۃ النبيصلی اللہ علیہ وسلم، ج۱،ص۲۶۵:(فیتوجہ إلی قبرہ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔۔۔، ثمّ یدنو منہ ثلاثۃ أذرع أو أربعۃ۔۔۔۔۔۔ ویقف کما یقف في الصلاۃ ویمثل صورتہ الکریمۃ البہیۃ کأنّہ نائم في لحدہ عالم بہ یسمع کلامہ کذا في ''الاختیار شرح المختار''، ثم یقول: السلام علیک یا نبي اللہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ أشہد أنّک رسول اللہ). 

    وفي ''المسلک المتقسط في المنسک المتوسط'' شرح ''لباب المناسک'' للملاّ علي القاري، ص۵۰۸: (ثم توجہ) أي: بالقلب والقالب (مع رعایۃ غایۃ الأدب، فقام تجاہ الوجہ الشریف) أي: قبالۃ موجھۃ قبرہ المنیف (متواضعا خاشعا مع الذلۃ والانکسار والخشیۃ والوقار) أي: السکینۃ، (والھیبۃ والافتقار غاض الطرف) أي:خافض العین إلی قدامہ غیر ملتفت إلی غیر إمامہ وأمامہ، (مکفوف الجوارح) أي: مکفوف الأعضاء من الحرکات التي ھي غیر مناسبۃ لمقامہ،( فارغ القلب) أي: عمن سوی مقصودہ ومرامہ، (واضعا یمینہ علی شمالہ) أي: تأدبا في حال إجلالہٗ (مستقبلا للوجہ الکریم مستدبرا للقبلۃ)؛ لأنّ المقام یقتضي ہذہ الحالۃ (تجاہ مسمار الفضۃ) أي: المرکبۃ علی جدران تلک البقعۃ،(علی نحو أربعۃ أذرع) أي: یقف بعیدا علی ھذا المقدار (لا أقل) أي: لأنّہ لیس من شعار آداب الأبرار)، ملتقطاً. ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۱۰، ص۷۶۵.
Flag Counter