| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے محبت کی علامت یہ ہے، کہ بکثرت ذکر کرے (1) اور درود شریف کی کثرت کرے اور نامِ پاک لکھے تو اُس کے بعد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم لکھے، بعض لوگ براہِ اختصار صلعم یا لکھتے ہیں، یہ محض ناجاءز وحرام ہے (2) اور محبت کی یہ بھی علامت ہے کہ آل و اَصحاب ، مہاجرین و انصار و جمیع متعلقین و متوسلین سے محبت رکھے اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دشمنوں سے عداوت رکھے(3)، اگرچہ وہ اپنا باپ یا بیٹا یا بھائی یا کُنبہ کے کیوں نہ ہوں(4) اور جو ایسا نہ کرے وہ اِس دعویٰ میں جھوٹا ہے، کیا تم کو نہیں معلوم کہ صحابہ کرام نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی محبت میں اپنے سب عزیزوں، قریبوں، باپ، بھائیوں اور وطن کو چھوڑا اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) سے بھی محبت ہو اور اُن کے دشمنوں سے بھی اُلفت...! ایک کو اختیار کر کہ ضِدَّین(5) جمع نہیں ہو سکتیں، چاہے جنت کی راہ چل یا جہنم کو جا۔ نیز علامتِ محبت یہ ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ في ''الشفا''، ج۲، ص۲۵: (ومن علامات محبۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم کثرۃ ذکرہ لہ، فمن أحب شیأ أکثر ذکرہ).
2۔۔۔۔۔۔ في ''حاشیۃ الطحطاوي'' علی ''الدر المختار''، مقدمۃ الکتاب، ج۱، ص۶: (ویکرہ الرمز بالصلوۃ والترضي بالکتابۃ، بل یکتب ذلک کلہ بکمالہ، وفي بعض المواضع عن ''التتارخانیۃ'': من کتب علیہ السلام بالھمزۃ والم یکفر؛ لأنّہ تخفیف وتخفیف الأنبیاء کفر بلا شک ولعلہ إن صحّ النقل فھو مقید بقصدہ وإلاّ فالظاھر أنّہ لیس بکفر وکون لازم الکفر کفراً بعد تسلیم کونہ مذھبا مختارا محلہ إذا کان اللزوم بینا نعم الاحتیاط في الاحتراز عن الإیہام). ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۶، ص۲۲۱ ۔ ۲۲۲، وج۲۳، ص۳۸۷۔۳۸۸.
3۔۔۔۔۔۔ وفي ''الشفا''، ج۲، ص۲۶:(ومنھا محبتہ لمن أحب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ومن ہو بسببہ من آل بیتہ وصحابتہ من المہاجرین والأنصار، وعداوۃ من عاداہم، وبغض من أبغضھم وسبہم، فمن أحب شیأا أحب من یحب).
4۔۔۔۔۔۔ (یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا اٰبَاءَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَائَ اِنِ اسْتَحَبُّوْا الْکُفْرَ عَلَی الْاِیمَانِ وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ مِّنْکُمْ فَاُولٰئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُونَ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَاؤُکُمْ وَاَبْنَاؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِاقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَا اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللہِ وَرَسُولِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفَاسِقِیْنَ) پ۱۰، التوبۃ: ۲۳۔۲۴.
(لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ یُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللہَ وَرَسُولَہٗ وَلَوْ کَانُوْا اٰبَاء َہُمْ اَوْ اَبْنَاء َہُمْ اَوْ اِخْوَانَہُمْ اَوْ عَشِیْرَتَہُمْ اُولٰئِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوبِہِمُ الْاِیمَانَ وَاَیَّدَہُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُ وَیُدْخِلُہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہَارُ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ اُولٰئِکَ حِزْبُ اللہِ اَلَا اِنَّ حِزْبَ اللہِ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ)، پ۲۸، المجادلۃ: ۲۲.
5۔۔۔۔۔۔ دو مخالف چیزیں۔