Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
76 - 278
ذکر آئے توبکمالِ خشوع و خضوع و انکسار بادب سُنے(1) ، اور نامِ پاک سُنتے ہی درود شریف پڑھنا واجب ہے۔ (2)
''اَللَّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا وَ مَوْلٰـنَا مُحَمَّدٍ مَعْدِنِ الْجُوْدِ وَالْکَرَمِ وَاٰلہِ الْکِرَامِ وَصَحْبِہِ الْعظَامِ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ .''
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    وفي ''المعتقد المنتقد''، وکذا یجب توقیرہ... إلخ، ص۱۴۲: (أنّ حرمۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعد موتہ وتوقیرہ وتعظمیہ بعد وفاتہ لازم علی کل مسلم کما کان حال حیاتہ؛ لأنّہ الآن حي یرزق في علو درجاتہ ورفعۃ حالاتہ وذلک عند ذکرہ وذکر حدیثہ وسنتہ وسماع اسمہ وسیرتہ).

1۔۔۔۔۔۔ في ''الشفا''، ج۲، ص۲۵۔۲۶: (ومن علاماتہ مع کثرۃ ذکرہ تعظمیہ لہ وتوقیرہ عند ذکرہ، وإظھار الخشوع والانکسار مع سماع اسمہ).

2۔۔۔۔۔۔ اعلی حضرت امام اھلسنت مجدد دین وملت مولانا الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن'' فتاوی رضویہ'' میں اس مسئلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: نام پاک حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مختلف جلسوں میں جتنے بار لے یا سنے ہر بار درود شریف پڑھنا واجب ہے ،اگر نہ پڑھے گا گنہگار ہوگا اور سخت سخت وعیدوں میں گرفتار، ہاں ا س میں اختلاف ہے کہ اگر ایک ہی جلسہ میں چند بار نام پاک لیا یا سنا تو ہر بار واجب ہے یا ایک بار کافی اور ہر بار مستحب ہے، بہت علما قولِ اوّل کی طرف گئے، ان کے نزدیک ایک جلسہ میں ہزار بار کلمہ شریف پڑھے تو ہر بار درود شریف بھی پڑھتا جائے اگر ایک بار بھی چھوڑا گنہگار ہوا ۔'' مجتبی'' و ''درمختار'' وغیرھما میں اسی قول کو مختار و اَصح کہا : في ''الدر المختار'': اختلف في وجوبہا علی السامع والذاکر کلما ذکر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، والمختار تکرار الوجوب کلما ذکر ولو اتحد المجلس في الأصحاھ، بتلخیص. ترجمہ: در مختار میں ہے کہ اس بارے میں اختلاف ہے کہ جب بھی حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا اسم گرامی ذکر کیا جائے تو سامع اور ذاکر دونوں پر ہر بار درود و سلام عرض کرنا واجب ہے یا نہیں؟ اصح مذہب پر مختار قول یہی ہے کہ ہر بار درود و سلام واجب ہے اگرچہ مجلس ایک ہی ہو، اھ، خلاصۃً(ت)۔

     دیگر علما نے بنظر آسانیِ امت قول دوم اختیار کیا ان کے نزدیک ایک جلسہ میں ایک بار درود ادائے واجب کے لئے کفایت کریگا زیادہ کے ترک سے گنہگار نہ ہوگا مگر ثوابِ عظیم وفضل جسیم سے بے شک محروم رہا، ''کافی'' و ''قنیہ'' وغیرھما میں اسی قول کی تصحیح کی۔ في ''رد المحتار'': صححہ الزاھدي في ''المجتبی'' لکن صحّح في ''الکافي'' وجوب الصلاۃ مرۃ في کل مجلس کسجود التلاوۃ للحرج إلاّ أنّہ یندب تکرار الصلاۃ في المجلس الواحد بخلاف السجود، وفي ''القنیۃ'': قیل: یکفی في المجلس مرۃ کسجدۃ التلاوۃ، وبہ یفتی، وقد جزم بھذا القول المحقق ابن الھمام في ''زاد الفقیر''، اھ، ملتقطا۔ ترجمہ: ''رد المحتار '' میں ہے کہ اسے زاہدی نے'' المجتبی ''میں صحیح قرار دیا ہے لیکن ''کافی'' میں ہر مجلس میں ایک ہی دفعہ درود کے وجوب کو صحیح کہا ہے جیسا کہ سجدئہ تلاوت کا حکم ہے تاکہ مشکل اور تنگی لازم نہ آئے، البتہ مجلس واحد میں تکرارِ درود مستحب و مندوب ہے بخلاف سجدئہ تلاوت کے، ''قنیہ'' میں ہے : ایک مجلس میں ایک ہی دفعہ درود پڑھنا کافی ہے جیسا کہ سجدئہ تلاوت کا حکم ہے اور اسی پر فتوی ہے، ابن ھمام نے ''زاد الفقیر'' میں اسی قول پر جزم کیا ہے اھ ، ملتقطا (ت)۔

     بہرحال مناسب یہی ہے کہ ہر بار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کہتا جائے کہ ایسی چیز جس کے کرنے میں بالاتفاق بڑی بڑی رحمتیں برکتیں ہیں اور نہ کرنے بلا شبہ بڑے فضل سے محرومی اور ایک مذہب ِ قوی پر گناہ و معصیت، عاقل کا کام نہیں کہ اسے ترک کرے، وباللہ التوفیق۔ 

''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۶، ص۲۲۲ ۔۲۲۳.
Flag Counter