| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
ہی کے صدقہ میں ملیں۔ دوسری حدیث اسکی تائید میں یہ ہے کہ غارِ ثور میں پہلے صدیقِ اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ گئے، اپنے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر اُس کے سوراخ بند کر دیے، ایک سوراخ باقی رہ گیا، اُس میں پاؤں کا انگوٹھا رکھ دیا، پھر حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو بلایا، تشریف لے گئے اور اُن کے زانو پر سرِاقدس رکھ کر آرام فرمایا، اُس غارمیں ایک سانپ مشتاقِ زیارت رہتا تھا، اُس نے اپنا سَر صدیقِ اکبر کے پاؤں پر مَلا، انھوں نے اِس خیال سے کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیند میں فرق نہ آئے پاؤں نہ ہٹایا، آخر اُس نے پاؤں میں کاٹ لیا، جب صدیقِ اکبر کے آنسو چہرہ انور پر گرے، چشمِ مبارک کھلی، عرضِ حال کیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے لعابِ دہن لگا دیا فوراً آرام ہوگیا ، ہر سال وہ زہر عَود کرتا، بار۲ ۱ ہ برس بعد اُسی سے شہادت پائی۔ (1)
ثابت ہوا کہ جملہ فرائض فروع ہیں
اَصلُ الاصول بندگی اُس تاجور کی ہے (2)
عقیدہ (۴۸): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی تعظیم و توقیر جس طرح اُس وقت تھی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اِس عالم میں ظاہری نگاہوں کے سامنے تشریف فرماتھے، اب بھی اُسی طرح فرضِ اعظم ہے (3)، جب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کاــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔(ثَانِیَ اثْنَیْنِ إِذْ ہُمَا فِی الْغَارِ إِذْ یَقُولُ لِصَاحِبِہِ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّہَ مَعَنَا)[پ۱۰، التوبۃ: ۴۰] في ''روح البیان''، تحت ہذہ الآیۃ، ج۳ ، ص۴۳۲۔۴۳۳ : (فلما أراد رسول اللہ دخولہ قال لہ أبو بکر: مکانک یا رسول! حتی أستبرء الغار فدخل واستبرأہ وجعل یسدّ الحجرۃ بثیابہ خشیۃ أن یخرج منھا شيء یؤذیہ أي: رسول اللہ فبقی جحر وکان فیہ حیۃ فوضع رضی اللہ عنہ عقبہ علیہ ثم دخل رسول اللہ فجعلت تلک الحیۃ تلسعہ وصارت دموعہ تنحدر فتفل رسول اللہ علی محل اللدغۃ فذہب ما یجدہ)۔
في ''تفسیر الخازن''، پ۱۰، التوبۃ: ۴، ج۲، ص۲۴۰: ( قال لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ادخل، فدخل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ووضع رأسہ في حجرہ ونام فلدغ أبوبکر في رجلہ من الحجر ولم یتحرک مخافۃ أن ینتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فسقطت دموعہ علی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: ((ما لک یا أبابکر؟)) فقال: لدغت فداک أبي وأمي فتفل علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فذھب ما یجدہ ثم انتقض علیہ وکان سبب موتہ).
2۔۔۔۔۔۔ ''حدائقِ بخشش''، حصہ أوّل، ص۱۴۴، وانظر ''الفتاوی الرضویۃ''، ۳۰، ص۱۳۸.
3۔۔۔۔۔۔ وفي''الشفاء''، الباب الثالث في تعظیم أمرہ ووجوب توقیرہ وبرہ، فصل،ج۲،ص۴۰:(أنّ حرمۃ النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعد موتہ وتوقیرہ وتعظیمہ لازم کما کان حال حیاتہ).
في ''روح البیان''، الأحزاب: تحت الآیۃ: ۵۳، ج۷، ص۲۱۶: (یجب علی الأمۃ أن یعظموہ علیہ السلام ویوقروہ في جمیع الأحوال في حال حیاتہ وبعد وفاتہ فإنّہ بقدر ازدیاد تعظمیہ وتوقیرہ في القلوب یزداد نور الإیمان فیھا).