| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
عقیدہ (۴۷): حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تعظیم یعنی اعتقادِ عظمت جزو ِایمان و رکنِ ایمان ہے(1) اور فعلِ تعظیم بعد ایمان ہر فرض سے مقدّم ہے، اِس کی اہمیت کاپتا اس حدیث سے چلتا ہے کہ غزوہ خیبر سے واپسی میں منزل صہبا پر نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نمازِ عصر پڑھ کر مولیٰ علی کرّم اﷲ تعالیٰ وجہہ کے زانو پر سرِ مبارک رکھ کر آرام فرمایا، مولیٰ علی نے نمازِ عصر نہ پڑھی تھی، آنکھ سے دیکھ رہے تھے کہ وقت جارہا ہے، مگر اِس خیال سے کہ زانو سرکاؤں تو شاید خوابِ مبارک میں خلل آئے، زانو نہ ہٹایا، یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا، جب چشمِ اقدس کھلی مولیٰ علی نے اپنی نماز کا حال عرض کیا، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے حکم دیا، ڈوبا ہوا آفتاب پلٹ آیا، مولیٰ علی نے نماز ادا کی پھر ڈوب گیا(2)، اس سے ثابت ہوا کہ افضل العبادات نماز اور وہ بھی صلوٰۃِ وُسطیٰ نمازِ عصر (3) مولیٰ علی نے حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیند پر قربان کر دی، کہ عبادتیں بھی ہمیں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ = وفي ''عمدۃ القاري''، کتاب العمل في الصلاۃ، باب إذا ادعت الأم ولدہا في الصلاۃ، تحت الحدیث: ۱۲۰۶، ج۵، ص۶۰۶: (من خصائص النبي صلی اللہ علیہ وسلم أنّہ لو دعا إنسانا وہو في الصلاۃ وجب علیہ الإجابۃ ولا تبطل صلاتہ).
وفي''المرقاۃ''، کتاب فضائل القرآن، ج۴،ص۶۲۴، تحت الحدیث:۲۱۱۸:(قال الطیبي: دل الحدیث علی أنّ إجابۃ الرسول لا تبطل الصلاۃ، کما أنّ خطابہ بقولک: السلام علیک أیہا النبي لا یبطلہا).
1۔۔۔۔۔۔ وفي ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۱۵، ص۱۶۸: (لِتُؤْمِنُوْا بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہ، وَتُوَقِّرُوْہ،) [الفتح: ۹]: یہ رسول کا بھیجنا کس لئے ہے خود فرماتا ہے : ''اس لئے کہ تم اللہ و رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو''۔ معلوم ہوا کہ دین وایمان محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی تعظیم کا نام جو ان کی تعظیم میں کلام کرے اصل رسالت کو باطل وبیکار کیا چاہتاہے ، والعیاذ باللہ تعالی ۔
2۔۔۔۔۔۔ عن أسماء بن عمیس أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلی الظھربالصھبائ، ثم أرسل علیا في حاجۃ فرجع وقد صلی النبي صلی اللہ علیہ وسلم العصر، فوضع النبي صلی اللہ علیہ وسلم رأسہ في حجرعليّ فنام فلم یحرکہ حتی غابت الشمس، فقال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((اللھم إنّ عبدک علیا احتبس بنفسہ علی نبیہ فرُدّ علیہ الشمس)) قالت: فطلعت علیہ الشمس حتی رفعت علی الجبال وعلی الأرض وقام علي فتوضأ وصلی العصر ثم غابت وذلک بالصھباء.
''المعجم الکبیر ''، الحدیث: ۳۸۲، ج۲۴، ص۱۴۴۔۱۴۵.
وفي ''الشفا''، فصل في انشقاق القمر، الجزئ۱، ص۲۸۴: ((أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم کان یوحی إلیہ ورأسہ في حجرعلي فلم یصل العصرحتی غربت الشمس فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أصلیتَ یا علي؟)) قال: لا، فقال: ((اللّٰھم إنّہ کان في طاعتک وطاعۃ رسولک فاردد علیہ الشمس))، قالت أسمائ: فرأیتھا غربت ثم رأیتھا طلعت بعد ما غربت ووقفت علی الجبال والأرض وذلک بالصھباء في خیبر.
3۔۔۔۔۔۔ (حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَالصَّلَاۃِ الْوُسْطٰی) پ۲، البقرۃ: ۲۳۸.
في ''تفسیر الطبري''، تحت الآیۃ، ج۲، ص۵۶۹، الحدیث: ۵۳۸۵: (حدثنا أبو کریب قال: حدثنا مصعب بن سلام، عن أبي حیان، عن أبیہ، عن علي قال: ((الصلاۃ الوسطی صلاۃ العصر)).