Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
72 - 278
    عقیدہ (۴۳): ہر قسم کی شفاعت حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے لیے ثابت ہے۔ شفاعت بالو جاہۃ، شفاعت بالمحبۃ، شفاعت بالاذن، اِن میں سے کسی کا انکار وہی کریگا جو گمراہ ہے۔ (1) 

    عقیدہ (۴۴): منصبِ شفاعت حضور کو دیا جاچکا، حضور فرماتے ہیں صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم :
    ((أُعْطِیْتُ الشَّفَاعَۃَ))(2)
، اور ان کا رب فرماتا ہے:
 ( وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنۡۢبِکَ وَ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ؕ ) ـ3ـ
''مغفرت چاہو اپنے خاصوں کے گناہوں اور عام مؤمنین و مؤمنات کے گناہوں کی۔'' 

    شفاعت اور کس کا نام ہے...؟
''اَللّٰھُمَّ ارْزُقْـنَا شَفَاعَۃَ حَبِیبِکَ الْکَرِیْمِ.''

(یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ o لا اِلَّا مَنْ اَ تَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ o ط )(4)
    شفاعت کے بعض احوال، نیز دیگر خصائص جو قیامت کے دن ظاہر ہوں گے، احوالِ آخرت میں اِن شاء اﷲ تعالیٰ بیان ہوں گے۔ 

    عقیدہ (۴۵): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی محبت مدار ِایمان،بلکہ ایمان اِسی محبت ہی کا نام ہے، جب تک حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی محبت ماں باپ اولاد اور تمام جہان سے زیادہ نہ ہو آدمی مسلمان نہیں ہوسکتا۔ (5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ                                                                                                                       1۔۔۔۔۔۔ ''المعتقد المنتقد''، تکمیل الباب، ص۱۲۹ ۔ ۱۳۱.

2۔۔۔۔۔۔ یعنی: ''مجھے شفاعت دے دی گئی''. ''صحیح البخاري''، کتاب التیمم، الحدیث: ۳۳۵، ج۱، ص۱۳۴. 

3۔۔۔۔۔۔ پ۲۶، محمّد: ۱۹. 

4۔۔۔۔۔۔ ترجمہ کنز الایمان: جس دن نہ مال کام آئے گا نہ بیٹے مگر وہ جو اللہ کے حضور حاضر ہوا سلامت دل لے کر. پ۱۹، الشعرآء: ۸۸ ۔۸۹.

5۔۔۔۔۔۔ قال اللہ تعالی: (قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَاؤُکُمْ وَاَبْنَـآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُنِاقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسَاکِنُ تَرْضَوْنَہَآ أَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِنَ اللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللہُ بِاَمْرِہٖ وَاللہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ) پ۱۰، التوبۃ: ۲۴.

    عن أنس قال: قال النبي صلی اللہ علیہ وسلم: ((لا یؤمن أحدکم حتی أکون أحب إلیہ من والدہ وولدہ والناس أجمعین))۔

    ''صحیح البخاري''، کتاب الإیمان، باب حبّ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الإیمان، الحدیث: ۱۵،ج۱، ص۱۷.

    وانظر رسالۃ إمام أھل السنۃ علیہ الرحمۃ: ''تمہید إیمان بآیات قرآن'' في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۳۱۰.
Flag Counter