| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
جن میں چار اَرَب نوے کروڑ کی تعداد معلوم ہے، اِس سے بہت زائد اور ہیں، جو اﷲ و رسول (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے علم میں ہیں(1)، بہُتیرے وہ ہوں گے جن کا حساب ہوچکا ہے اور مستحقِ جہنم ہوچکے، اُن کو جہنم سے بچائیں گے(2) اور بعضوں کی شفاعت فرما کر جہنم سے نکالیں گے(3) اور بعضوں کے درجات بلند فرمائیں گے(4) اور بعضوں سے تخفیفِ عذاب فرمائیں گے۔ (5)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ثم محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیشفع، فیقضي اللہ بین الخلائق فیمشي حتی یأخذ بحلقۃ باب الجنۃ فیومئذ یبعثہ اللہ مقاماً محموداً یحمدہ أھل الجمع کلہم)). ''الدر المنثور''، ج۵، ص۳۲۵.
وفي ''المعتقد المنتقد''، تکمیل الباب، ص۱۲۸: (الشفاعۃ لإراحۃ الخلائق من ھول الموقف)۔
قال الإمام أحمد رضا في ''المعتمد المستند''، تحت اللفظ: ''لإراحۃ الخلائق'': (وہي الشفاعۃ الکبری لعمومہا جمیع أھل الموقف). و''روح البیان''، ج۵، ص۱۹۲.
1۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((وعدني ربي أن یدخل الجنۃ من أمتي سبعین ألفا لا حساب علیھم ولا عذاب، مع کل ألف سبعون ألفا وثلاث حثیات من حثیات ربي)). ''جامع الترمذي''، أبواب صفۃ القیامۃ، ۱۲۔ باب منہ الحدیث: ۲۴۴۵، ج۴، ص۱۹۸.
وفي روایۃ: أنّ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إنّ ربي أعطاني سبعین ألفا من أمتي یدخلون الجنۃ بغیر حساب))، فقال عمر: یا رسول اللہ، فھلا استزدتہ؟ قال: ((قد استزدتہ، فأعطاني مع کلّ رجل سبعین ألفاً)) قال عمر: فھلا استزدتہ؟ قال: ((قد استزدتہ فأعطاني ھکذا)) وفرج عبد اللہ بن بکر بین یدیہ وقال عبد اللہ: وبسط باعیہ وحثا عبد اللہ وقال ھشام: وھذا من اللہ لا ید ری ما عددہ. ''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۷۰۶، ج۱، ص۴۱۹.
2۔۔۔۔۔۔ ((فما أزال أشفع حتی أعطی صکاکا برجال قد بعث بھم إلی النار وآتي مالکاً خازن النار فیقول: یا محمد ما ترکت للنار لغضب ربک في أمتک من بقیۃ)). ''المستدرک'' للحاکم، کتاب الإیمان، للأنبیاء منابر من ذہب، الحدیث: ۲۲۸، ج۱، ص۲۴۲.
3۔۔۔۔۔۔ ((یخرج قوم من النار بشفاعۃ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فیدخلون الجنۃ یسمون الجھنمیین)).
''صحیح البخاري''، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، الحدیث: ۶۵۶۶، ج۴، ص۲۶۳.
4۔۔۔۔۔۔ في ''المعتقد المنتقد''، أقسام شفاعتہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص۱۲۹: (ومنھا زیادۃ الدرجات) وفي ''حجۃ اللہ علی العالمین''، ص۵۳: (والشفاعۃ في رفع درجات ناس في الجنۃ).
5۔۔۔۔۔۔ عن عباس بن عبد المطلب قال: یا رسول اللہ ھل نفعت أبا طالب بشيء فإنّہ کان یحوطک ویغضب لک؟ قال: ((نعم، ھو في ضحضاح من نار، لولا أنا لکان في الدرک الأسفل من النار)).
''صحیح البخاری''، کتاب الأدب، باب کنیۃ المشرک، الحدیث: ۶۲۰۸، ج۴، ص۱۵۷۔۱۵۸.
وانظر رسالۃ إمام أھل السنۃ علیہ الرحمۃ: ''إسماع الأربعین في شفاعۃ سید المحبوبین''، ج۲۹، ۵۷۱۔