| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
عقیدہ (۴۲): قیامت کے دن مرتبہ شفاعتِ کبریٰ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے خصائص سے ہے کہ جب تک حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) فتحِ بابِ شفاعت نہ فرمائیں گے کسی کو مجالِ شفاعت نہ ہو گی(1)، بلکہ حقیقۃً جتنے شفاعت کرنے والے ہیں حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دربار میں شفاعت لائیں گے(2) اور اﷲ عزوجل کے حضور مخلوقات میں صرف حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) شفیع ہیں(3) اور یہ شفاعتِ کُبریٰ مومن، کافر، مطیع، عاصی سب کے لیے ہے، کہ وہ انتظارِ حساب جو سخت جانگزا ہوگا، جس کے لیے لوگ تمنّائیں کریں گے کہ کاش جہنم میں پھینک دیے جاتے اور اس انتظار سے نجات پاتے، اِس بلا سے چھٹکارا کفّار کو بھی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی بدولت ملے گا، جس پر اوّلین و آخرین، موافقین و مخالفین، مؤمنین و کافرین سب حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی حمد کریں گے، اِسی کا نام مقامِ محمود ہے(4) اور شفاعت کے اور اقسام بھی ہیں، مثلاً بہتوں کو بلاحساب جنت میں داخل فرمائیں گے،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1۔۔۔۔۔۔ (عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُودًا) پ۱۵، الإسرائ: ۷۹.
في ''تفسیر الطبري''،ج۸، ص۱۳۱، تحت الآیۃ:عن ابن عباس، قولہ: (عَسٰی اَنْ یَّبْعَثَکَ رَبُّکَ مَقَامًا مَّحْمُودًا)، قال: المقام المحمود: مقام الشفاعۃ).
وفي ''روح البیان''، ج۵، ص۱۹۲، تحت الآیۃ : (مَقَامًا مَّحْمُودًا) عندک وعند جمیع الناس وھو مقام الشفاعۃ العامۃ لأھل المحشر یغبطہ بہ الأولون والآخرون؛ لأن کل من قصد من الأنبیاء للشفاعۃ ےحید عنھا وےحیل علی غیرہ حتی یاتوا محمداً للشفاعۃ فی قول: ((أنا لھا))، ثم یشفع فیشفع فیمن کان من أھلھا).
في ''المعتقد المنتقد''، تکمیل الباب، ص۱۲۷: (ومنھا: أن یعتقد أنّ یوم القیمۃ لا یستغني أحد من أمتہ بل جمیع الأنبیاء عن جاھہ ومنزلتہ، ومتی لم یفتح الشفاعۃ لا یستطیع أحد شفاعۃ). و''الفتاوی الرضویۃ''، ج۲۹، ص۵۷۵۔
2۔۔۔۔۔۔ قال الإمام أحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن في '' المعتمد المستند''، ص۱۲۷: وھذا أحد معاني (قولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم: ((أنا صاحب شفاعتہم)) والمعنی الآخر الألطف الأشرف أن لا شفاعۃ لأحد بلا واسطۃ عند ذي العرش جل جلالہ إلاّ للقرآن العظیم ولھذا الحبیب المرتجی الکریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، وأمّا سائر الشفعاء من الملائکۃ والأنبیاء والأولیاء والعلماء والحفاظ والشھداء والحجاج والصلحاء فعند رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فیُنہون إلیہ ویشفعون لدیہ وہو صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یشفع لمن ذکروہ ولمن لم یذکروا عند ربہ عزوجل، وقد تأکد عندنا ھذا المعنی بأحادیث، وللہ الحمد. ۱۲).
3۔۔۔۔۔۔ عن النبيصلی اللہ علیہ وسلم قال: ((إذا کان یوم القیامۃ کنت إمام النبیین وخطیبہم وصاحب شفاعتہم غیر فخر)). ''سنن الترمذي''، کتاب المناقب، باب سلوا اللہ لي الوسیلۃ، الحدیث: ۳۶۳۳، ج۵، ص۳۵۳.
4۔۔۔۔۔۔ عن ابن عمر رضي اللہ عنھما قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: ((إنّ الشمس لتدنو حتی یبلغ العرق نصف الأذن، فبینما ہم کذلک استغاثوا بآدم علیہ السلام فیقول: لَسْتُ بصاحب ذلک، ثم موسی علیہ السلام فیقول کذلک،