Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
69 - 278
    عقیدہ (۴۱): تمام مخلوق اوّلین وآخرین حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی نیاز مند ہے(1)، یہاں تک کہ حضرت ابراہیم خلیل اﷲ علیہ السلام۔ (2)
           ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ                                                                                                                             في ''المرقاۃ''، ج۲، ص۴۲۹، تحت الحدیث: (فعلمت أي: بسبب وصول ذلک الفیض ما في السموات والأرض، یعني: ما أعلمہ اللہ تعالی مما فیھما من الملائکۃ والأشجار وغیرھما، وہو عبارۃ عن سعۃ علمہ الذي فتح اللہ بہ علیہ، وقال ابن حجر:

أي: جمیع الکائنات التي في السموات بل وما فوقہا، کما یستفاد من قصۃ المعراج، والأرض ہي بمعنی الجنس، أي: وجمیع ما في الأرضین السبع بل وما تحتہا۔۔۔۔ إلخ).

    وفي ''أشعۃ اللمعات''، ج۱، ص۳۵۷، تحت قولہ: ((فعلمت ما في السموات والأرض)) پس دانستم ہر چہ در آسمان ہا و ہرچہ در زمین بود عبارت است از حصول تمامہ علوم جزوی وکلی واحاطہ آن). 

    یعنی: ''پس جو کچھ آسمان وزمین میں تھا سب کچھ میں نے جان لیا'' یہ بات تمام علوم کلی وجزئی کو گھیرے ہوئے ہے۔

1۔۔۔۔۔۔ عن أبي ہریرۃ قال۔۔۔۔۔۔: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أنا سید الناس یوم القیامۃ، وھل تدرون بم ذاک؟ یجمع اللہ تعالی یوم القیامۃ الأولین والآخرین في صعید واحد۔۔۔۔۔۔ فیقول بعض الناس لبعض: ائتوا آدم، فیأتون آدم ۔علیہ السلام۔۔۔۔۔۔۔ فیقول آدم:۔۔۔۔۔۔ نفسي نفسي، اذہبوا إلی غیري اذہبوا إلی نوح، فیأتون نوحا۔علیہ السلام۔۔۔۔۔۔۔ فیقول لہم: ۔۔۔۔۔۔ نفسي نفسي، اذہبوا إلی إبراہیم، فیأتون إبراہیم،۔۔۔۔۔۔ فیقول لہم إبراہیم:۔۔۔۔۔۔ نفسي نفسي اذہبوا إلی غیري، اذہبوا إلی موسی، فیأتون موسی،۔۔۔۔۔۔ فیقول لہم موسی:۔۔۔۔۔۔ نفسي نفسي اذہبوا إلی عیسی، فیأتون عیسی،۔۔۔۔۔۔ فیقول لہم عیسی:۔۔۔۔۔۔ نفسي نفسي اذہبوا إلی غیري، اذہبوا إلی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فیأتوني فیقولون: یا محمد! أنت رسول اللہ وخاتم الأنبیائ، وغفر اللہ لک ما تقدم من ذنبک وما تأخر، اشفع لنا إلی ربک، ألا تری ما نحن فیہ، ألا تری ما قد بلغنا، فأنطلق فآتي تحت العرش فأقع ساجداً لربي، ثم یفتح اللہ عليّ ویلہمني من محامدہ وحسن الثناء علیہ شیأاً لم یفتحہ لأحد قبلي، ثم یقال: یا محمد! ارفع رأسک سل تعطہ اشفع تشفع، فأرفع رأسي فأقول: یا رب! أمتي أمتي فیقال: یا محمد! أدخل الجنۃ من أمتک، مَن لا حساب علیہ، من باب الأیمن من أبواب الجنۃ، وہم شرکاء الناس فیما سوی ذلک من الأبواب))، ملتقطاً. ''صحیح مسلم''، کتاب الإیمان، باب أدنی أھل الجنۃ منزلۃ فیہا، الحدیث: ۱۹۴، ص۱۲۵۔۱۲۶.

2۔۔۔۔۔۔ قال رسول اللہ  : ((اللّھم! اغفر لأمتي، اللّھم اغفر لأمتي، وأخرّت الثالثۃ لیوم یرغب إليّ الخلق کلھم حتی إبراھیم علیہ السلام)). ''صحیح مسلم''، کتاب فضائل القرآن، باب بیان أنّ القرآن علی... إلخ، الحدیث: ۸۲۰، ص۴۰۹.

    وفي''نوادر الأصول''، الأصل الثالث والسبعون، ص۱۱۰، والأصل الثاني عشر والمائۃ، ص۱۴۸: ((وأنّ إبراہیم لیرغب في دعائي ذلک الیوم)). ''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۲۱۷۔۲۱۸.
58 بَدَنہ:یعنی اونٹ یا گائے۔ یہ تمام جانور ان ہی شرائط کے ہوں جو قربانی میں ہیں ۔ (رفیق الحرمین ،ص۲۲۸)

59 صدقہ:یعنی صدقہ فطر کی مقدار(آج کل کے حساب سے دو کلو تقریباً پچاس گرام گیہوں یا اس کا آٹا یا اس کی رقم یا اس کے دگنے جو یا کھجور یا اس کی رقم )۔ (ایضاً)

60 مرضُ الْموت:کسی مرض کے مرض الموت ہونے کے لیے دوباتیں شرط ہیں ۔ایک یہ کہ اس مرض میں خوف ھلاک واندیشہ موت قوت وغلبہ کے ساتھ ہو،دوم یہ کہ اس غلبہ خوف کی حالت میں اس کے ساتھ موت متصل ہواگرچہ اس مرض سے نہ مرے،موت کاسبب کوئی اورہوجائے ۔ (ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۲۵،ص ۴۵۷)

61 مُدَبَّر:وہ غلام جس کی نسبت مولیٰ نے کہاکہ تومیرے مرنے کے بعدآزادہے۔ (بہارشریعت ،حصہ ۹ ،ص۹)

62 حجِ بدل:نیابۃً(نائب بن کر) دوسرے کی طرف سے حج فرض اداکرناکہ اس پرسے فرض کوساقط کرے۔ 

(ماخوذازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص ۶۵۹)

63 نَحر:اونٹ کوکھڑاکرکے سینے میں گلے کی انتہاپرتکبیرکہہ کرنیزہ مارنااس کونحر کہتے ہیں۔

(ماخوذازبہارشریعت، حصہ ۶،ص۱۱۲)

64 اِلْمَامِ صحیح:مُتمتّع کاعمرہ کے بعد احرام کھول کراپنے وطن کوواپس جانا۔ (ماخوذ ازبہارشریعت، حصہ ۶،ص۱۲۹)

65 جُرمِ غیر اختیاری :اگربیماری ،سخت سردی،سخت گرمی ،پھوڑے اورزخم یاجووں کی شدید تکلیف کی وجہ سے کوئی جرم ہوا تواسے جرم غیراختیاری کہتے ہیں۔ (ماخوذازبہارشریعت، حصہ ۶،ص۱۳۳)

66 چارپہر:اس سے مراد ایک دن یاایک رات کی مقدارہے مثلاً طلوع آفتاب سے غروب آفتاب اور غروب آفتاب سے طلوع آفتاب یادوپہر سے آدھی رات یا آدھی رات سے دوپہر تک۔ (حاشیہ فتاوی رضویہ، ج۱۰، ص ۷۵۷)

67 مُحْصَر:جس نے حج یاعمرہ کااحرام باندھامگرکسی وجہ سے پورانہ کرسکا،اسے مُحصَر کہتے ہیں۔(بہارشریعت، حصہ ۶،ص۱۶۶)

68 ہَدِی :اس جانور کوکہتے ہیں جوقربانی کے لیے حرم کولے جایاجائے۔ (بہارشریعت، حصہ ۶،ص۱۸۴)

69 مُد:ایک پیمانہ جووزن میں دورطل ہوتاہے۔ (ماخوذ ازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص۲۹۶)

70 حجِ قِران:حج وعمرہ (دونوں )کے احرام کی نیت کرے اسے قران کہتے ہیں اوراس حج کرنے والے کوقارِن کہتے ہیں۔

(ماخوذ ازفتاوی رضویہ، ج۱۰،ص۸۱۴)
Flag Counter