| بہارِشریعت حصّہ اول (1) |
عقیدہ (۳۸): مُحال ہے کہ کوئی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا مثل ہو(1)، جو کسی صفتِخاصّہ میں کسی کو حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا مثل بتائے،گمراہ ہے یا کافر۔
عقیدہ (۳۹): حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو اﷲ عزوجل نے مرتبہ محبوبیتِ کبریٰ سے سرفراز فرمایا ، کہ تمام خَلق جُویائے رضائے مولا ہے (2) اور اﷲ عزوجل طالبِ رضائے مصطفےٰ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم۔ (3) ـــــــــــــــــــــــــ = في ''حاشیۃ الصاوي''، ج۱، ص۲۱۶: (فالأنبیاء وسائط لأممہم في کلّ شيء وواسطتہم رسول اللہ)۔
وفیہ ج۱، ص۵۲: (فہو الواسطۃ لکل واسطۃ حتی آدم)۔
في ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳، ۲۴۷: (أنہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم لا یتشرف بغیرہ بل الکل إنما یتشرفون بہ)۔
یعنی: حضور علیہ الصلاۃ والسلام کو کسی دوسرے سے شرف حاصل نہیں ہوا بلکہ دوسروں نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے شرف پایا ہے ۔
1۔۔۔۔۔۔ في ''المعتقد المنتقد''، ص۱۲۶: (ومن المعلوم استحالۃ وجود مثلہ بعدہ)۔
وانظر للتفصیل ''الشفا''، ج۲، ص۲۳۹، ''شرح الشفا'' للملا علي القاریئ، ج۲، ص۲۴۰، و''نسیم الریاض''، ج۶، ۲۳۲۔
2۔۔۔۔۔۔ تمام مخلوق اﷲ تعالیٰ کی رضا چاہتی ہے۔
3۔۔۔۔۔۔ (وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی) پ۳۰، الضحی:۵.
(قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْہِکَ فِی السَّمَآءِ فَلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃً تَرْضٰہَا) پ۲، البقرۃ: ۱۴۴.
في ''التفسیر الکبیر''، البقرۃ: تحت الآیۃ: ۱۴۲، ج۲، ص۸۲: (ولم یقل: قبلۃ أرضاہا، والإشارۃ فیہ کأنہ تعالی قال: یا محمد کل أحد یطلب رضايَ وأنا أطلب رضاک في الدارین). وفي الحدیث: ((کلھم یطلبون رضائي وأنا أطلب رضاک یا محمد)).
وفي الحدیث: ((یا محمد أنت نور نوري وسر سري وکنوز ہدایتي وخزائن معرفتي، جعلت فداء لک ملکي من العرش إلی ما تحت الأرضین، کلھم یطلبون رضائي وأنا أطلب رضاک یا محمد)).
''الفتاوی الرضویۃ'' ، ج۳۰، ص۴۹۱. وص ۱۹۷۔ ۱۹۸، وج۱۴، ۲۷۵۔۲۷۶.
عن عائشۃ قالت:۔۔۔۔۔۔ ((واللہ ما أری ربک إلاّ یسارع لک في ہواک)).
''صحیح مسلم''، کتاب الرضاع، باب جواز ہبتہا نوبتہا لضرتہا، الحدیث: ۱۴۶۴، ص۷۷۱.
وفي روایۃ: ''صحیح البخاري''، عن عائشۃ رضي اللہ عنہا قالت: ((مَا اُرَی رَبَّکَ إِلَّا یُسَارِعُ في ہَوَاکَ)). کتاب التفسیر، الحدیث: ۴۷۸۸، ج۳، ص۳۰۳. وفي ''فتح الباري''، ج۸، ص۴۵۳، تحت الحدیث: (أي: ما أری اللہ إلاّ موجداً لما ترید بلا تأخیر، منزلا لما تحب وتختار).
ع خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد [''حدائق بخشش''، ص۴۹]۔