Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ اول (1)
65 - 278
بلکہ اوروں کو جو کچھ مِلا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے طفیل میں، بلکہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دستِ اقدس سے ملا، بلکہ کمال اس لیے کمال ہوا کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کی صفت ہے اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اپنے رب کے کرم سے اپنے نفسِ ذات میں کامل و اکمل ہیں، حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کا کمال کسی وصف سے نہیں، بلکہ اس وصف کا کمال ہے کہ کامل کی صفت بن کر خود کمال و کامل و مکمّل ہو گیا، کہ جس میں پایا جائے اس کو کامل بنا دے۔(1)
          ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ                                                                                                                         أخبرنا جابر بن عبد اللہ أنّ النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: ((أعطیت خمساً لم یعطہن أحد قبلي۔۔۔۔۔۔إلخ)).

     ''صحیح البخاري''، کتاب التیمم، الحدیث: ۳۳۵، ج۱، ص۱۳۴.

     قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ((أعطیت خمساً لم یعطہن أحد من الأنبیاء قبلي۔۔۔۔۔۔إلخ)).

    ''صحیح البخاري''، کتاب الصلاۃ، الحدیث: ۴۳۸، ج۱، ص۱۶۸.

    عن عبادۃ بن صامت أنّ النبيصلی اللہ علیہ وسلمخرج فقال: ((إنّ جبریل أتاني فقال: أخرج فحدث بنعمۃ اللہ التي أنعم بہا علیک فبشرني بعشر لم یؤتہا نبي قبلي)).''الخصائص الکبری''، باب اختصاصہصلی اللہ علیہ وسلم بعموم الدعوۃ۔۔۔ إلخ، ج۲، ص۳۲۰.

    قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :((أعطیت ما لم یعط أحد من الأنبیاء)). 

    ''المصنف'' لابن أبيشیبۃ، کتاب الفضائل، باب ما أعطی اللہ تعالی۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۹، ج۷، ص۴۱۱.

    اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ یہ احادیث نقل کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ: ''ان روایات ہی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اعداد مذکورہ میں حصر مراد نہیں، کہیں دو فرماتے ہیں، کہیں تین، کہیں چار، کہیں پانچ، کہیں چھ، کہیں دس۔ اور حقیقۃً سو اور دوسو پر بھی انتہا نہیں۔ امام علامہ جلال الدین سیوطی قدس سرہ نے ''خصائص کبری'' میں اڑھائی سو کے قریب حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے خصائص جمع کئے۔ اور یہ صرف ان کا علم تھا ان سے زیادہ علم والے زیادہ جانتے تھے۔ اور علمائے ظاہر سے علمائے باطن کو زیادہ معلوم ہے، پھر تمام علوم عالم اعظم حضور سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے ہزاروں منزل ادھر منقطع ہیں ۔جس قدر حضور اپنے فضائل وخصائص جانتے ہیں دوسرا کیا جانے گا، اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ علم والاان کا مالک ومولی جل وعلا، (اَنَّ اِلٰی رَبِّکَ الْمُنْتَہٰی) پ۲۷، النجم: ۴۲، (ترجمہ:بیشک تمہارے رب ہی کی طرف منتہی ہے. ت)جس نے انہیں ہزاروں فضائل عالیہ وجلائل غالیہ دئے اور بے حد وبے شمار ابد الآباد کے لئے رکھے (وَلَلْآ خِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْأُولٰی) پ۳۰، الضحی: ۴، (ترجمہ: اور بے شک پچھلی گھڑی آپ کے لئے پھلی سے بہتر ہے۔ ت).     ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۲۵۳.

1۔۔۔۔۔۔'' فتاوی رضویہ'' میں ہے: ''ہمزیہ شریف '' میں ارشاد فرمایا : ع (کل فضل في العالمین فمن فضل     النبي استعارۃ الفضلاء)۔ 

    (جہاں والوں میں جو خوبی جس کسی میں ہے وہ اس نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فضل سے مانگ کرلی ہے)۔

    امام ابن حجر مکی ''افضل القری'' میں فرماتے ہیں: (لأنہ الممد لہم إذ ھو الوارث للحضرۃ الإلٰہیۃ والمستمد منھا بلا واسطۃ دون غیرہ فإنہ لا یستمد منھا إلا بواسطتہ فلا یصل لکامل منھا شيء إلا وھو من بعض مددہ وعلی یدیہ)۔ تمام جہان کی امداد کرنے والے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہیں اس لیے کہ حضور ہی بارگاہ الہی کے وارث ہیں بلا واسطہ خدا سے حضور ہی مدد لیتے ہیں اور تمام عالم مدد الہی حضور کی وساطت سے لیتا ہے تو جس کامل کو جو خوبی ملی وہ حضور ہی مدد اور حضور ہی کے ہاتھ سے ملی''۔ (''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۶۷۷)۔ =
Flag Counter